شاعری

وہم سے یا گماں سے اٹھتی ہے

وہم سے یا گماں سے اٹھتی ہے یا کہیں درمیاں سے اٹھتی ہے وہ تمنا کہ جس پہ جیتے ہیں کیا بتائیں کہاں سے اٹھتی ہے غم کدہ ہے یہ میرؔ صاحب کا ایک تابانی یاں سے اٹھتی ہے کیا سماوات میں تلاطم ہے کیا فغاں جسم و جاں سے اٹھتی ہے موج جب تہ نشین ہوتی ہے لہر آب رواں سے اٹھتی ہے لا مکانی مکاں ...

مزید پڑھیے

مری شکست نے مجھ کو بہت توانا کیا

مری شکست نے مجھ کو بہت توانا کیا زمین بوس ہوا اور فلک نشانہ کیا سواد لفظ پہ معنی کا پیرہن رکھا اٹھایا شعر فضا میں اسے ترانہ کیا طریق و طور رکھا عشق میں عجیب و غریب رقیب سے بھی مراسم کو محرمانہ کیا ہمیں تھے جو کہ مکاں در مکاں مکیں نہ ہوئے پہ طائروں نے جہاں چاہا آشیانہ کیا وہ ...

مزید پڑھیے

نظر نیچی کیے گزرے جہاں سے

نظر نیچی کیے گزرے جہاں سے کبھی پوچھا نہیں کچھ آسماں سے گزر کر آ گئے ہیں جسم و جاں سے ہماری گفتگو ہے رفتگاں سے جسے کرنا ہو ترک بادہ کر لے ہمیں کہنا نہیں کچھ بے دلاں سے سگ دنیا ہیں لیکن بے محابا ہم اٹھ جائیں گے تیرے آستاں سے محبت کی زباں ہے صاف و سادہ اسے رشتہ نہیں کچھ این و آں ...

مزید پڑھیے

رات کالی نہیں تو کیا ہوگی

رات کالی نہیں تو کیا ہوگی پائمالی نہیں تو کیا ہوگی شعر گویوں کی فطرت سادہ لاابالی نہیں تو کیا ہوگی اس کی زنبیل اور مری زنبیل میری خالی نہیں تو کیا ہوگی لحن اک اور وہ بھی وقت صبح وہ بلالی نہیں تو کیا ہوگی اچھے انسانوں کی طبیعت بھی گر سفالی نہیں تو کیا ہوگی شام کے سائے ہیں ...

مزید پڑھیے

کتاب عشق کا اک باب لکھ دیا میں نے

کتاب عشق کا اک باب لکھ دیا میں نے زمیں سراب فلک خواب لکھ دیا میں نے ہماری نظروں سے جام سفال جب گزرا پس دعا اسے نایاب لکھ دیا میں نے سکوت آب کو اس نے سکوت آب لکھا سکوت آب کو گرداب لکھ دیا میں نے وہ کوئی جبر تھا یا جبر سے فرار مرا رخ مہیب کو مہتاب لکھ دیا میں نے کہ روشنی کی نہ تھی ...

مزید پڑھیے

مل چکے ہیں گلاب سے پہلے

مل چکے ہیں گلاب سے پہلے آپ کے انتخاب سے پہلے ہم ترا اعتبار کر لیں گے مطمئن ہوں جواب سے پہلے منتظر نیند کہہ رہی ہے یہ دور ہوں اضطراب سے پہلے پیار کا بھی سبق ضروری ہے علم کی ہر کتاب سے پہلے تھام لیں ہاتھ دفعتاً ان کا پوچھنا کیا جناب سے پہلے آپ میں بھی نشہ کہاں کم ہے کاش آتے شراب ...

مزید پڑھیے

اگر وہ خوب صورت ہے بھلی ہے

اگر وہ خوب صورت ہے بھلی ہے ہماری روح بھی تو صندلی ہے ابھی رفتار پکڑے گی محبت ابھی تو وہ دبے پیروں چلی ہے یقیناً آ گئے ہیں بزم میں وہ نہیں تو اس قدر کیوں کھلبلی ہے دعا پھر غیب سے ماں نے ہمیں دی ہماری اک مصیبت پھر ٹلی ہے دکھاوا ہے محض شائستگی یہ تمہاری جب نظر ہی منچلی ہے ابھی ...

مزید پڑھیے

زیست کی یوں تو شام تک پہنچے

زیست کی یوں تو شام تک پہنچے عشق میں پر سلام تک پہنچے گفتگو جب ہوئی نگاہوں میں وصل کے ہم پیام تک پہنچے روز اس کی گلی میں ٹھہریں ہم کیا پتہ کب وہ بام تک پہنچے آخرش وہ ہوئے پشیماں ہی لوگ جو انتقام تک پہنچے کیوں نہ مل بیٹھ کر صلح کر لیں مسئلہ کیوں نظام تک پہنچے راز دل دوست سے بھی ...

مزید پڑھیے

زیست کیسے حسین ہو جائے

زیست کیسے حسین ہو جائے آدمی جب مشین ہو جائے مطمئن ہیں خلوص سے ہم تو آپ کو بس یقین ہو جائے خواہش نفس ہے یہی ہر دم ساتھ اک نازنین ہو جائے لوگ ہیں بے شمار جب دل میں کیسے مالک مکین ہو جائے عشق ناداں کا جب ہوا کامل پھر کوئی کیوں ذہین ہو جائے بھر گیا زندگی سے دل اب تو موت شاید معین ...

مزید پڑھیے

کوئی گر اشک بھی پونچھے تو غم ہلکا نہیں ہوتا

کوئی گر اشک بھی پونچھے تو غم ہلکا نہیں ہوتا گھڑی آگے بڑھا دینے سے دن چھوٹا نہیں ہوتا پلاتی ہیں کسے اب دودھ مائیں با وضو ہو کر تبھی تو ہم میں اب ٹیپو کوئی پیدا نہیں ہوتا گناہوں کی بھیانک برف باری ہم کو کھا جاتی خدا کے رحم کا سورج اگر چمکا نہیں ہوتا کہیں بھی جا کے بس جائیں وطن کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4112 سے 4657