شاعری

جنگ سے آگے اب جدال پہ ہیں

جنگ سے آگے اب جدال پہ ہیں گو کہ شمشیر احتمال پہ ہیں دیدنی تھے جو دیدنی نہ رہے زخم خوردہ ہیں اندمال پہ ہیں موت یہ زندگی سے کہتی ہے اب گلے مل لو ہم اچھال پہ ہیں کیا یہ آواز اس غنیم کی ہے جس کے مابین جس کی ڈھال پہ ہیں کچھ ہیں طوفان باد و باراں پر اور کچھ باد برشگال پہ ہیں ہم سراپا ...

مزید پڑھیے

چاک پر کوزہ گر ہے محو سخن

چاک پر کوزہ گر ہے محو سخن گل کھلے جا رہے ہیں دشت و دمن ہم دریدہ بدن دریدہ بدن اک نئے زاویے پہ نقش کہن شعر و شاعر ہوئے ہیں شیر و شکر کیا بہم ہو گئے زمین و زمن ایک ہیجان نسبتوں میں کہیں ایک ریگ رواں ہے دشت سخن مجھ سے کیا پوچھتی ہے سیرابی کیسے رہتے ہیں لوگ تشنہ دہن تلخ تیزابی ترش ...

مزید پڑھیے

آرزو اور ہوس کا حصہ ہوں

آرزو اور ہوس کا حصہ ہوں جسم کی لذتوں کا قصہ ہوں ایک کنج فرار میں محفوظ پس دیوار ہوں میں سایہ ہوں شب گزیدہ ادھر سے گزریں گے کاروان سحر کا جادہ ہوں حیرتی میں کہ میرا آئینہ جسم ہوں یا کہ رقص بادہ یوں میری تنہائی مجھ سے کہتی ہے نقش کہنہ پہ نقش تازہ ہوں کیف و کم کے شمار کیا ...

مزید پڑھیے

بے کیف روز و شب بھی تمہارا خیال بھی

بے کیف روز و شب بھی تمہارا خیال بھی پہلو میں تم بھی اور دل پائمال بھی ہم ٹوٹتے ہی جاتے ہیں ہر روز روز و شب گو میرے سامنے ہے تمہاری مثال بھی جینے کے طرز و طور پہ ماضی کی ہے گرفت اب ذہن پائمال سے ماضی نکال بھی بالائی منزلوں سے مناظر ہیں خوب تر بنیاد پہ ہے ضرب عمارت سنبھال بھی سکے ...

مزید پڑھیے

لکھ دیا فیصلہ یک قلم

لکھ دیا فیصلہ یک قلم کچھ بھی سوچا نہیں محترم چشم نم کے تئیں چشم نم کس کی ہم راز ہے چشم نم گردش دہر کا ذکر تھا ہم بھی شامل ہوئے صبح دم ایک محراب ہے پشت پر سامنے الحرم الحرم دل کا سیپارہ ویران ہے اور ہم رقص میں دم بہ دم حشر تم بھی اٹھاتے رہے ہم لنڈھاتے رہے جام و جم اک سفر اب بھی ...

مزید پڑھیے

جو آئینے سے تیری جلوہ سامانی نہیں جاتی

جو آئینے سے تیری جلوہ سامانی نہیں جاتی کسی بھی دیکھنے والے کی حیرانی نہیں جاتی کبھی اک بار ہولے سے پکارا تھا مجھے تم نے کسی کی مجھ سے اب آواز پہچانی نہیں جاتی بھری محفل میں مجھ سے پھیر لی تھیں بے سبب نظریں وہ دن اور آج تک ان کی پشیمانی نہیں جاتی پسے جاتے ہیں دل ہر گام پہ شور ...

مزید پڑھیے

نظر ملتے ہی ساقی سے گری اک برق سی دل پر

نظر ملتے ہی ساقی سے گری اک برق سی دل پر وہ اٹھا شور ٹوٹے جام کہ بن آئی محفل پر اسی انداز سے اس نے لکھی ہے داستاں دل پر گلے میں پیار سے باہیں حمائل اور چھری دل پر کوئی اک حادثہ ہو گر کریں ہم ذکر بھی اس کا گزرتے ہیں یہاں تو حادثے پر حادثے دل پر نہ منزل ہے نہ جادہ ہے نہ کوئی راہبر ...

مزید پڑھیے

شیشہ ہی چاہئے نہ مے ارغواں مجھے

شیشہ ہی چاہئے نہ مے ارغواں مجھے بے مانگے جو ملے وہی کافی ہے ہاں مجھے اے شوخئ نگاہ ذرا احتیاط رکھ اس بزم میں ہے پاس حدیث بتاں مجھے یا رب مرے گناہ کیا اور احتساب کیا کچھ دی نہیں ہے خضر سی عمر رواں مجھے چنتا تھا راہ زیست کے خاروں کو میں ہنوز ہے سب عبث اجل نے کہا ناگہاں مجھے لگتا ...

مزید پڑھیے

چلو یہ سچ ہی سہی ہوگا ناگہاں گزرے

چلو یہ سچ ہی سہی ہوگا ناگہاں گزرے ہمارے در سے مگر آپ مہرباں گزرے جدھر بھی آپ گئے بس گئے ہیں ویرانے اجڑ گئے ہیں چمن ہم جہاں جہاں گزرے ہمیں مٹانے کی گر کوششیں تمام ہوئیں تو یہ بھی کہئے کہ ہم کتنے سخت جاں گزرے وہ صبح و شام کی رنگینیاں تمام ہوئیں صعوبتوں کی کڑی دھوپ ہے جہاں ...

مزید پڑھیے

ترے گیسوؤں کے سائے میں جو ایک پل رہا ہوں

ترے گیسوؤں کے سائے میں جو ایک پل رہا ہوں ابھی تک ہے یاد مجھ کو ابھی تک بہل رہا ہوں میں وہ رند نو نہیں ہوں جو ذرا سی پی کے بہکوں ابھی اور اور ساقی کہ میں پھر سنبھل رہا ہوں نہیں غم نہ مل سکے گی مجھے شیخ تیری جنت مجھے آرزو نہیں ہے نہ میں ہاتھ مل رہا ہوں جو نہ میرے کام آئے جو نہ میری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4114 سے 4657