شاعری

مطمئن بیٹھا ہوں خود کو جان کر

مطمئن بیٹھا ہوں خود کو جان کر اور کیا ملتا خدا کو مان کر میرے دشمن کی شرافت دیکھیے دار کرتا ہے مجھے پہچان کر ذہن و دل تفریق کے قائل نہیں کیا کروں اپنا پرایا جان کر دوستو روداد منزل پھر کبھی راستہ چپ تھا مجھے پہچان کر زندگی سے اب بھی سمجھوتا نہیں جی لیے تیری ضرورت جان کر اپنے ...

مزید پڑھیے

یوں تو سب دنیا میں دنیا ہر اک محفل میں ہے

یوں تو سب دنیا میں دنیا ہر اک محفل میں ہے میں ہوں جس دنیا میں وہ دنیا تمہارے دل میں ہے اس حقیقت سے بھی اے ارباب ساحل ہوشیار ایک نا معلوم طوفان پردۂ ساحل میں ہے بے خبر ہیں قافلے والے ابھی اس راز سے منزل مقصود راہوں میں نہیں ہے دل میں ہے میں نے ہی کچھ سوچ کر اس کو بتا دی راہ ...

مزید پڑھیے

کس کا بھید کہاں کی قسمت پگلے کس جنجال میں ہے

کس کا بھید کہاں کی قسمت پگلے کس جنجال میں ہے بازی ہے اک سادہ کاغذ سارا کرتب چال میں ہے ایک رہیں یا دو ہو جائیں رسوائی ہر حال میں ہے جیون روپ کی ساری شوبھا جیون کے جنجال میں ہے تجھ سے بچھڑ کر تجھ سے مل کر دونوں موسم دیکھ لیے بات جہاں تھی اب بھی وہیں ہے فرق ذرا سا حال میں ہے آخر ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ غم عشق فغاں تک پہنچے

اس سے پہلے کہ غم عشق فغاں تک پہنچے تم یہ موقع ہی نہ دو بات یہاں تک پہنچے تا بہ دامان جنوں عقل نگہبان رہی پھر مجھے ہوش نہیں ہاتھ کہاں تک پہنچے لے غم عشق ہمی خاک ہوئے جاتے ہیں یہ تو کہنے کو نہ ہوگا کہ فغاں تک پہنچے ایسے ماحول میں فریاد بھی لا حاصل ہے ضبط کرنے سے جہاں بات فغاں تک ...

مزید پڑھیے

گزریں گے تیرے دور سے جو کچھ بھی حال ہو

گزریں گے تیرے دور سے جو کچھ بھی حال ہو خود کون چاہتا ہے کہ جینا محال ہو میں نے تمام عمر گزاری ہے دل کے ساتھ لاؤ مرے حضور جو امر محال ہو یہ سوچ کر فریب محبت میں آ گئے ہم اتنے خوش کہاں جو نتیجہ ملال ہو میں جیسے اجنبی کوئی اپنے دیار میں تم جیسے میرے ذہن میں کوئی سوال ہو دل کے ...

مزید پڑھیے

حدود ذات میں اوروں کا ذکر ہی کیا ہے

حدود ذات میں اوروں کا ذکر ہی کیا ہے خود آدمی بھی نہ سمجھا کہ آدمی کیا ہے یہ فاصلے جو ترے قرب کی ضمانت ہیں سمٹ گئے تو بتاؤں گا زندگی کیا ہے ہمی کو خاک سمجھ لو تمہاری عمر دراز یہ تذکرہ تو مکمل ہو آدمی کیا ہے حجاب ذات سے باہر کہاں ابھی ہم لوگ ابھی یہ کون بتائے کہ آدمی کیا ہے کہا نہ ...

مزید پڑھیے

بن گئی ناز محبت طلب ناز کے بعد

بن گئی ناز محبت طلب ناز کے بعد اور بھی ایسے کئی راز ہیں اس راز کے بعد قدر کیا سوز تجلی کی سحر ساز کے بعد ٹھہر سکتی نہیں شبنم مری پرواز کے بعد اپنی منزل تو بنا لیتے ہیں دنیا والے میں کہاں جاؤں تری جلوہ گہہ ناز کے بعد میں ہی دنیا کی صدا بن کے نہیں ہوں خاموش خود بھی چپ ہو گئی دنیا ...

مزید پڑھیے

قریب تم تھے شکایت تمہیں سے ہونا تھی

قریب تم تھے شکایت تمہیں سے ہونا تھی اے شہر درد محبت تمہیں سے ہونا تھی تمہاری جنگ اسی سرزمیں سے ہونا تھی ہزار حیف مری گل زمیں سے ہونا تھی وہ ایک قطرہ کہ جو آبگین صورت تھا ہماری بات اسی آبگیں سے ہونا تھی یہ نعمتیں مرے خوانوں کی کس طرح اتریں کہ میری بات تو نان جویں سے ہونا ...

مزید پڑھیے

دست اٹھائیں یا کشکول

دست اٹھائیں یا کشکول ربا دینے والے بول یا رب یا رب کرتا ہوں یا رب یا رب مجھ سے بول میں نے تیری بولی سیکھی تو بھی میری بولی بول میں بھی نم دیدہ ہو جاؤں یوں آنکھوں سے موتی رول دنیا کو کچھ سمجھا ہوں کچھ دنیا کو تو بھی کھول کشتی پانی اوپر نیچے پانی کشتی ڈانواڈول میرے جینے کا ...

مزید پڑھیے

جو ختم ہو گئی تھی وہ بات چل رہی ہے

جو ختم ہو گئی تھی وہ بات چل رہی ہے اک سر خوشی کا عالم بارات چل رہی ہے تاریکیوں کے اندر اک رات چل رہی ہے اور رات کے جلو میں اک گھات چل رہی ہے کیا کیا بساط میں بھی پھیلا چکا تھا لیکن ان میں کسی پہ میری بھی مات چل رہی ہے ملنے کے سب بہانے ناکام ہو چکے ہیں وہ کہہ چکے ہیں مجھ سے برسات چل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4111 سے 4657