اس بھول میں نہ رہ کہ یہ جھونکے ہوا کے ہیں
اس بھول میں نہ رہ کہ یہ جھونکے ہوا کے ہیں تیور تو ان کے دیکھ ذرا کس بلا کے ہیں کیا ماجرا ہے اے بت توبہ شکن کہ آج چرچے تری گلی میں کسی پارسا کے ہیں اس چشم نیم وا کی ہے مستی شراب میں ساغر میں سارے رنگ اسی کی حیا کے ہیں ہستی کی قید کاٹتے رہتے ہیں رات دن کیا جانے کتنے سال ہماری سزا کے ...