ہمیں بھی پیار کرنا آ گیا ہے
ہمیں بھی پیار کرنا آ گیا ہے کہ جینے کا سلیقہ آ گیا ہے تمہیں آنا تھا شاید جنوری میں دسمبر کا مہینہ آ گیا ہے جو آمادہ ہوئے ہیں خود کشی پر وہ کہتے تھے کہ جینا آ گیا ہے خوشی میں جیت کی اس کو بھی دوں گی مجھے اب ہار جانا آ گیا ہے میں کیوں اس زخم پر مرہم لگاؤں جب اس کا لطف لینا آ گیا ...