شاعری

ہمیں بھی پیار کرنا آ گیا ہے

ہمیں بھی پیار کرنا آ گیا ہے کہ جینے کا سلیقہ آ گیا ہے تمہیں آنا تھا شاید جنوری میں دسمبر کا مہینہ آ گیا ہے جو آمادہ ہوئے ہیں خود کشی پر وہ کہتے تھے کہ جینا آ گیا ہے خوشی میں جیت کی اس کو بھی دوں گی مجھے اب ہار جانا آ گیا ہے میں کیوں اس زخم پر مرہم لگاؤں جب اس کا لطف لینا آ گیا ...

مزید پڑھیے

عشق اب تک ہے پرانی اک تری تصویر سے

عشق اب تک ہے پرانی اک تری تصویر سے روز کرتی ہوں شکایت کاتب تقدیر سے میں نمازی میں ہی پنڈت رب خدا سب ایک ہے گھونٹ دو گردن بھلے تم مذہبی زنجیر سے دے نہ پائے لوگ جیتے جی اگر عزت مجھے کر رہے ہیں کیوں جنازے کو وداع توقیر سے اہمیت اب ہے کہاں انسان میں جذبات کی تولتے ہیں آج کل ہر چیز کو ...

مزید پڑھیے

وہی سب سے بڑی ہوتی

وہی سب سے بڑی ہوتی اگر تیری کمی ہوتی بھلائی گر بھلی ہوتی صدی یہ کیا صدی ہوتی مسافر وہ پلٹ آتا اگر آواز دی ہوتی جھروکے گر کھلے ہوتے یہاں بھی روشنی ہوتی کنارا ڈھونڈھ ہی لیتی نہ کشتی گر پھنسی ہوتی وہ آنسو پونچھنے آیا وگرنہ یاں ندی ہوتی ذرا سا وقت کو روکے کہیں ایسی گھڑی ...

مزید پڑھیے

غیروں کا جانے اس سے کیسا معاملہ ہے

غیروں کا جانے اس سے کیسا معاملہ ہے اپنا تو اس گلی میں چرچا بہت رہا ہے سمجھو نہ یوں کہ ہم سے وہ جان جاں خفا ہے اپنی تو کچھ طبیعت بس یوں ہی بے مزہ ہے ہاں انجمن میں کم ہے اس کو حجاب لیکن انجان سا رہا ہے تنہا اگر ملا ہے اک عمر کی رفاقت یوں ختم ہو رہی ہے ہم اس سے بد گماں وہ ہم سے گریز پا ...

مزید پڑھیے

ہم کو خلوص دل کا کسی نے صلہ دیا ہے

ہم کو خلوص دل کا کسی نے صلہ دیا ہے اک تو نے غم دیا ہے سو وہ بھی کیا دیا ہے شہر نگار دل ہے آتش کدے کی صورت موسم نے اس برس بھی تحفہ بڑا دیا ہے ہم سے نہال گلشن رنگیں نفس ہوئے ہیں دست صبا کو ہم نے رنگ حنا دیا ہے اپنوں کی جستجو ہے اپنے مگر کہاں ہیں لوگوں نے جانے ہم کو کس کا پتا دیا ...

مزید پڑھیے

دل میں ویرانیاں سسکتی ہیں

دل میں ویرانیاں سسکتی ہیں کیسی روحیں یہاں بھٹکتی ہیں یہ تعاقب میں کون آتا ہے کس کی پرچھائیاں لپکتی ہیں رونقیں جنگلوں میں گریہ کناں شہر میں آندھیاں بلکتی ہیں آسماں ٹوٹ کر نہیں گرتا بجلیاں رات بھر کڑکتی ہیں عشق آسیب ہو گیا جیسے خواہشیں زہر بن کے پکتی ہیں گم ہوئے قافلے تمنا ...

مزید پڑھیے

انجام عشق مانا اکثر برا ہوا ہے

انجام عشق مانا اکثر برا ہوا ہے بے عشق زندگی کا انجام کیا ہوا ہے کیا حال دل سنائیں کیا وجہ غم بتائیں بس یہ کہ آج کل وہ ہم سے کھچا ہوا ہے کیا ذکر گل رخوں کا اس شہر کے کریں ہم ہر شخص ہی یہاں تو قاتل بنا ہوا ہے کس کس سے مل چکے ہیں کس کس سے اب ملیں گے اک روگ زندگی کو یہ بھی لگا ہوا ...

مزید پڑھیے

دل سے وحشی کو شادمان کیا

دل سے وحشی کو شادمان کیا دیدۂ تر کو دید بان کیا ہم قبیلہ ہمارا تھا سقراط زہر اس نے بھی نوش جان کیا عشق اپنا اسی کے نام رہا حسن کو صاحب نشان کیا ہاں سر بزم کچھ نہ بولے ہم بزم اس کی تھی اس کا مان کیا اس کی اتنی سی بے رخی پہ خلیلؔ ہم نے کیا کیا نہ کچھ گمان کیا

مزید پڑھیے

ہوں مبارک تم کو شیدائی بہت

ہوں مبارک تم کو شیدائی بہت ہیں ہمارے بھی تمنائی بہت ہم ہی کچھ اس کے نہ کام آئے کبھی زندگی تو اپنے کام آئی بہت رات بھی تھے گوش بر آواز ہم دل دھڑکنے کی صدا آئی بہت ڈوبنا چاہیں تو اے ظالم ہمیں ہے تری آنکھوں کی گہرائی بہت ہم ہی کچھ سوچیں گے اب اے چارہ گر دیکھ لی تیری مسیحائی ...

مزید پڑھیے

یہ زندگی جو گزرتی ہے امتحاں کی طرح

یہ زندگی جو گزرتی ہے امتحاں کی طرح ہمیں عزیز ہے اس یار مہرباں کی طرح میں اس کو بھولنا چاہوں تو بھول جاؤں مگر وہ میرے ساتھ ہی رہتا ہے میری جاں کی طرح سجانا چاہ رہے ہیں مگر سجائیں کیا ہمارا شہر ہے لوٹی ہوئی دکاں کی طرح ذرا سمجھ تو سہی عہد نا سپاس ہمیں کہ تیرے ساتھ ہیں ہم یاد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4084 سے 4657