شاعری

ہم ان سے ٹوٹ کر ملتے ہیں مل کر ٹوٹ جاتے ہیں

ہم ان سے ٹوٹ کر ملتے ہیں مل کر ٹوٹ جاتے ہیں تماشہ ہے کہ شیشے سے بھی پتھر ٹوٹ جاتے ہیں میں ہوں وہ سخت جاں ہے جس کی جرأت اتنی مستحکم مرے سینے تک آتے آتے خنجر ٹوٹ جاتے ہیں جو رشتے ہوتے ہیں قائم فقط مطلب پرستی پر وہی رشتے یقیناً خود ہی اکثر ٹوٹ جاتے ہیں جفا اہل وفا پر کرکے جب احساس ...

مزید پڑھیے

دل یہی سوچ کے بیتاب ہوا جاتا ہے

دل یہی سوچ کے بیتاب ہوا جاتا ہے در بدر میرا ہر اک خواب ہوا جاتا ہے رات دن درد کے آغوش میں جلتی سانسیں اب لہو جسم کا تیزاب ہوا جاتا ہے بہتے رہتے ہیں ان آنکھوں سے مسلسل آنسو شہر دل وادئ بے آب ہوا جاتا ہے جب بھی پڑتی ہے کھلی دھوپ زمیں پر اس کی اس کا چہرہ کوئی مہتاب ہوا جاتا ہے تیری ...

مزید پڑھیے

یہ دل ہی جانتا ہے پھر کہاں کہاں بھٹکے

یہ دل ہی جانتا ہے پھر کہاں کہاں بھٹکے بچھڑ کے تم سے ہم آخر کہاں کہاں بھٹکے ہمارے پاؤں کے چھالے ہی یہ سمجھتے ہیں کہ تیرے پیار کی خاطر کہاں کہاں بھٹکے تمہاری چاند سی تصویر کے تصور میں ہمیں پتا ہے مصور کہاں کہاں بھٹکے تمہیں پتا ہی نہیں تم کو دیکھنے کے بعد غزل کے نام سے شاعر کہاں ...

مزید پڑھیے

ستم سہنے کی تیاری بھی کوئی چیز ہوتی ہے

ستم سہنے کی تیاری بھی کوئی چیز ہوتی ہے محبت میں وفاداری بھی کوئی چیز ہوتی ہے بہت ہم خود غرض تھے جب محبت کی تو یہ جانا کہ اپنی جان سے پیاری بھی کوئی چیز ہوتی ہے ضروری تو نہیں ہر بات ہونٹھوں سے کہی جائے نگاہوں کی اداکاری بھی کوئی چیز ہوتی ہے اگر آنکھوں سے بہہ جائیں تو ہو جاتا ہے ...

مزید پڑھیے

فضائے دل میں گھنی تیرگی سی لگتی ہے

فضائے دل میں گھنی تیرگی سی لگتی ہے کہیں کہیں پہ ذرا روشنی سی لگتی ہے بڑا عجیب محبت کا دور ہوتا ہے کہیں پہ موت کہیں زندگی سی لگتی ہے چمکنے لگتی ہے ہر چیز میرے کمرے کی تمہاری یاد کوئی پھلجھڑی سی لگتی ہے میں سوچتا ہوں کہوں کیسے بے وفا اس کو مجھے تو اپنے ہی اندر کمی سی لگتی ...

مزید پڑھیے

اسے یادوں میں جب لانا مسلسل کر دیا میں نے

اسے یادوں میں جب لانا مسلسل کر دیا میں نے اسے وو ہچکیاں آئیں کہ پاگل کر دیا میں نے کتابوں میں پڑھے جب ایک طرفہ پیار کے قصے خود اپنا دل تمناؤں کا مقتل کر دیا میں نے کئی غزلیں پڑی تھیں نامکمل ایک عرصے سے اسے جب آج دیکھا تو مکمل کر دیا میں نے جو سایہ ہم قدم بن کر سفر میں ساتھ رہتا ...

مزید پڑھیے

ان سے گلے ملا تو مری بے دلی گئی

ان سے گلے ملا تو مری بے دلی گئی جیسے کسی مریض کہ سب خستگی گئی کچھ علم بھی نہیں ہے مرے عشق کا اسے بس دوست دوست کہتے ہوئے زندگی گئی ایسا نہیں کہ زندگی ہی رائیگاں ہوئی اس شاعری کے فن سے تو بس نوکری گئی میرے قریب آنے سے دریا جھجھک گیا دریا کو ایسے دیکھ کے ہی تشنگی گئی

مزید پڑھیے

وہ شخص دو کو ہمیشہ ہی تین کہتا ہے

وہ شخص دو کو ہمیشہ ہی تین کہتا ہے کمال یہ بھی ہے خود کو ذہین کہتا ہے زمانا اس کے لیے مہہ جبین کہتا ہے وہ خود کو پھر بھی تو پردا نشین کہتا ہے کہیں جو سچ تو ہے ممکن زبان ساتھ نہ دے مگر وہ جھوٹ بہت بہترین کہتا ہے ہے ٹوٹنا اسے اک دن ضرور ٹوٹے گا گمان ہے یہ جسے تو یقین کہتا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

وسیلی سی ہوائیں ہیں وطن میں

وسیلی سی ہوائیں ہیں وطن میں گھلا ہے زہر یوں گنگ و جمن میں قفس میں ہی لگے محفوظ رہنا پرندے اب نہیں اڑتے گگن میں لٹے گا کارواں کیسے نہیں اب ہوئے رہبر ہی شامل راہزن میں گلوں میں جلنے کی بو آ رہی ہے لگائی آگ یہ کس نے چمن میں سیاست کھیل اپنا کھیلتی ہے لڑاتی اب عبادت اور بھجن ...

مزید پڑھیے

ہاتھ میرے ہیں بندھے ہاتھ ملاؤں کیسے

ہاتھ میرے ہیں بندھے ہاتھ ملاؤں کیسے پاس ہو کر بھی تیرے پاس میں آؤں کیسے میرے اندر بھی مچلتا ہے سمندر لیکن تیرے ہونٹوں کی ابھی پیاس بجھاؤں کیسے وقت نے ڈال دی زنجیر میرے پیروں میں دوڑ کر تجھ کو گلے یار لگاؤں کیسے زہر آلودہ میرے ہاتھ ہوئے ہیں ہمدم پیار کا جام بھلا تجھ کو پلاؤں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4086 سے 4657