شاعری

بیٹھنا ساحل پہ دریا کی روانی دیکھنا

بیٹھنا ساحل پہ دریا کی روانی دیکھنا اور خالی وقت میں فلمیں پرانی دیکھنا دیکھنا چاہو اداسی میں شجر ڈوبے ہوئے تم پرندوں کی کبھی نقل مکانی دیکھنا انتہائی سکھ کنہیں آنکھوں میں میرے خواب ہوں انتہائی دکھ انہیں آنکھوں میں پانی دیکھنا روز سو جانا فلک کی وسعتوں کو اوڑھ کر روز ...

مزید پڑھیے

تمام مدت مرا یہ شکوہ رہا کرن سے

تمام مدت مرا یہ شکوہ رہا کرن سے کہ اس نے مجھ پر نظر نہ ڈالی کبھی گگن سے پرانی چاہت کے زخم اب تک بھرے نہیں ہیں اور ایک لڑکی پڑی ہے پیچھے بڑے جتن سے میں زندگی کا دیا جلا کر کے جیوں ہی پلٹا تبھی اچانک ہوائیں چل دیں قضا کے بن سے وہ ماہ پارہ ملن سے پہلے بہت خفا تھی اب اس کے بوسے چھٹا ...

مزید پڑھیے

ایسے کھلتے ہیں فلک پر یہ ستارے شب کے

ایسے کھلتے ہیں فلک پر یہ ستارے شب کے جس طرح پھول ہوں سارے یہ بہار شب کے تیری تصویر بنا کر تری زلفوں کے لئے ہم نے کاغذ پہ کئی رنگ اتارے شب کے وہ مصور جو بناتا ہے سحر کا چہرہ اس سے کہنا کہ ابھی درد ابھارے شب کے کیا کسی شخص کی ہجرت میں جلی ہیں راتیں کیوں شراروں سے چمکتے ہیں ستارے شب ...

مزید پڑھیے

اس سے کیا بڑھ کے بد نصیبی ہو

اس سے کیا بڑھ کے بد نصیبی ہو ایک شاعر جو فلسفی بھی ہو اک محبت مجھے بھی ہے درکار جو کہ پہلی ہو آخری بھی ہو ایک منظر ہو شانت ٹھہرا ہوا جس میں بہتی ہوئی ندی بھی ہو اک کہانی ہے میرے بارے میں تم نے شاید کہیں سنی بھی ہو یاد وہ شے ہے جس کے مرنے پر دل میں ماتم بھی ہو خوشی بھی ہو کیا خبر ...

مزید پڑھیے

لاکھوں کی بھیڑ میں بھی کوئی ہم نفس نہ ہو

لاکھوں کی بھیڑ میں بھی کوئی ہم نفس نہ ہو اللہ تیری خلق کا مطلب قفس نہ ہو رنگ جمال عشق سے کونچی بھری ہو پر تصویر کھینچنے کے لیے کینوس نہ ہو کہئے کہ کیسے دل لگے ایسی جگہ جہاں باتیں تو بے حساب ہوں باتوں میں رس نہ ہو میں عشق کر رہا ہوں مگر سوچتا بھی ہوں پچھلے برس جو ہو چکا اب کے برس نہ ...

مزید پڑھیے

چاہے گھر میں روک دے یا رہ گزر میں روک دے

چاہے گھر میں روک دے یا رہ گزر میں روک دے وہ جسے چاہے اسے آدھے سفر میں روک دے یہ اگر باہر گئیں تو خامشی چھا جائے گی میری آوازیں مرے دیوار و در میں روک دے ناخدا اس جل پری کے پاس پہنچا دے مجھے یا تو اس کشتی کو لے جا کر بھنور میں روک دے چند قدموں پر بدل جاتے ہیں میرے ہم سفر اے خدا کوئی ...

مزید پڑھیے

ستم میں تاب کم ہو تو پشیمانی میں رہتی ہیں

ستم میں تاب کم ہو تو پشیمانی میں رہتی ہیں مرے غم سے مری خوشیاں پریشانی میں رہتی ہیں تمہاری شکل ان آنکھوں میں آ جاتی ہے دن ڈھلتے یہ دونوں سیپیاں پھر رات بھر پانی میں رہتی ہیں جو درد‌ زخم بڑھتا ہے تو لطف اندوز ہوتا ہوں مری سب راحتیں اس کی نمک دانی میں رہتی ہیں مرے اندر کے غم باہر ...

مزید پڑھیے

جب حق دل و دماغ میں بھرپور رچ گیا

جب حق دل و دماغ میں بھرپور رچ گیا میرے قدم جہاں پڑے کہرام مچ گیا ہر بار اس سے قوت اظہار چھن گیا جب بھی میں اس کی بزم میں لے کر پہنچ گیا میں نے تو اپنے در پہ لکھایا تھا اپنا نام لیکن کوئی پڑوسی اسے بھی کھرچ گیا دریا کی تہ چٹان کی زد کو بھی سہہ گئی لیکن یہ کیا کہ سطح پہ اک شور مچ ...

مزید پڑھیے

سامنے اک کتاب ادھ کھلی اور میں

سامنے اک کتاب ادھ کھلی اور میں بے سبب شمع جلتی ہوئی اور میں بے صدا ایک نغمے کے ہیں منتظر دف بجاتی ہوئی خامشی اور میں وقت کی کوکھ کا بر محل سانحہ یہ جہاں مضطرب زندگی اور میں کچھ پرند آسماں سے اترتے ہوئے لطف اندوز جن سے ندی اور میں وقت کی شاخ پر خوش نما پھول تھے وہ گلی حسن کی ...

مزید پڑھیے

ہر اک کتاب نجومی غلط بتاتا ہے

ہر اک کتاب نجومی غلط بتاتا ہے مری حیات کا جب زائچہ بناتا ہے کسی حویلی میں جب وحشتیں پنپتی ہیں بدن پہ سبزۂ نورستہ لہلہاتا ہے ہماری نیند میں گرداب بننے لگتے ہیں اداس کمرہ عجب قہقہے لگاتا ہے مہیب تیرہ گپھا میں بدن ہے سہما ہوا بس ایک جگنو ہے جو حوصلہ بڑھاتا ہے نہ جانے کتنے نئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3914 سے 4657