شاعری

سامنے شاہ وقت کے اسلمؔ کون کہے یہ بات

سامنے شاہ وقت کے اسلمؔ کون کہے یہ بات چور نہ تھے فن کار تھے ہم پھر کاٹ لیے کیوں ہات اس کا شیوہ اس کی فطرت رشتوں کی توہین ننگ انسانیت ہیں سب اس کے احساسات کنڈلی مارے بیٹھا ہوا تھا اس کی ذات میں کھوٹ آ کر واپس ہو جاتی تھی رشتوں کی سوغات میری خموشی پر طاری ہے کیسا عالم کشف دشت بدن ...

مزید پڑھیے

رفیق دوست محب مجھ کو شاق سب ہی تھے

رفیق دوست محب مجھ کو شاق سب ہی تھے اگرچہ کہنے کو یہ ہم مذاق سب ہی تھے میں امتحان کی کاپی کو سادہ چھوڑ آیا دماغ میں تو سیاق و سباق سب ہی تھے تمام رات رہا دل میں حبس کا منظر کھلے ہوئے تو در اشتیاق سب ہی تھے اسی محل سے تھی وابستہ شہر کی عظمت شکستہ یوں تو در و بام و طاق سب ہی ...

مزید پڑھیے

غلط بتاتے ہو تم سلف کی شجاعتیں سب

غلط بتاتے ہو تم سلف کی شجاعتیں سب تو آؤ دریا میں غرق کر دیں حکایتیں سب یہ سوچتا ہوں میں پڑھ رہا ہوں کتاب کیسی دھواں دھواں ہیں لبوں کو چھوکر عبارتیں سب نظام انصاف و عدل پر یہ نہ جانے کیسا زوال آیا برہنہ ہو کر سسک رہی ہیں صداقتیں سب جو فن کو بکواس کہنے والے سنائیں غزلیں گرو کہیں ...

مزید پڑھیے

لوؤں کے جشن زار میں خزاں کو حال آئے گا

لوؤں کے جشن زار میں خزاں کو حال آئے گا مرے شجر کے سائے پر اگر زوال آئے گا درون شہر جہل اگر جلیں گی حق کی مشعلیں تو خواب خوردہ ساعتو تمہیں ملال آئے گا جدا جدا رہا ہے کیا فقیر راہ نیند میں کہ زندگی کے بھاؤ پر نہ اب اچھال آئے گا پئے فرار رشوتیں عطا ہوں پاسبان کو فصیل شہر سے پرے یہی ...

مزید پڑھیے

جشن ہم یوں بھی منائیں دیر تک

جشن ہم یوں بھی منائیں دیر تک آج کی شب خود سے الجھیں دیر تک ساتھیوں میں جب فراست ہی نہیں اک پہیلی کیا بجھائیں دیر تک گفتگو کا اک طریقہ یہ بھی ہے آؤ ہم خاموش بیٹھیں دیر تک یہ تمہارے ظلم کی توہین ہے شہر میں چیخیں نہ گونجیں دیر تک رات کی بانہیں ہمیں بھینچے رہیں اور پھر ہم خود کو ...

مزید پڑھیے

زخم کچھ ایسے دے کے گیا دارائی کا کرب

زخم کچھ ایسے دے کے گیا دارائی کا کرب بھوگ رہا ہوں مدت سے تنہائی کا کرب یہ تو سرخ سلگتا سورج ہی جانے ہے کتنا بھیانک ہوتا ہے تنہائی کا کرب تیز ہوا میں تالی بجانے والے پتو بانجھ نہ کر دے پیڑوں کو شہنائی کا کرب ذہن کا میرے روز بدل دیتا ہے موسم شام ڈھلے سوندھا سوندھا انگنائی کا ...

مزید پڑھیے

خوں وراثت کا رگوں میں فخر کے قابل ہوا

خوں وراثت کا رگوں میں فخر کے قابل ہوا جب مرے ہی خاکداں سے میرا سر حاصل ہوا ہر جزیرہ برف کا میری انا کی مملکت راہ میں پھر کوہ نا معلوم کیوں حائل ہوا ریت کے دریا سے قائم تھی امید معجزہ تشنگی میں جو قدم آگے بڑھا حاصل ہوا سایہ پانی میں چلا جب مجھ کو تنہا چھوڑ کر میرا منظر ہی مرے ...

مزید پڑھیے

میرے سخن میں تبھی فلسفہ زیادہ ہے

میرے سخن میں تبھی فلسفہ زیادہ ہے کہ میں نے لکھا بہت کم پڑھا زیادہ ہے اس ایک رنگ کی تھی جستجو زمانے کو وہ ایک رنگ جو مجھ پہ کھلا زیادہ ہے تم ہی بتاؤ ابھی کیسے چھوڑ دوں اس کو ابھی وہ مجھ میں ذرا مبتلا زیادہ ہے یہ ایک پل کی وفا مدتوں کا رونا ہے ذرا سے جرم کی اتنی سزا زیادہ ہے میں ...

مزید پڑھیے

قدموں کا رہ دل پہ نشاں کوئی نہیں تھا

قدموں کا رہ دل پہ نشاں کوئی نہیں تھا مدت سے یہاں گشت کناں کوئی نہیں تھا تجھ کو تو مرے دوست ہے تنہائی میسر میں نے وہاں کاٹی ہے جہاں کوئی نہیں تھا ویسے تو بہت بھیڑ تھی اس خانۂ دل میں لیکن مرے مطلب کا یہاں کوئی نہیں تھا کوئی بھی نہیں تھا جسے ہم دل کی سناتے کوئی بھی نہیں تھا مری جاں ...

مزید پڑھیے

اس سے خوابوں میں سامنا ہوگا

اس سے خوابوں میں سامنا ہوگا ہجر کا لطف دو گنا ہوگا کچھ اجالے بھی ساتھ رکھ لینا دشت دنیا بہت گھنا ہوگا اس کو کچھ دیر دیکھنے کے لئے پہلے ہر اور دیکھنا ہوگا وہ بھی دنیا کے طور سیکھ گیا یعنی اب اس کو چھوڑنا ہوگا اس نے پوچھی ہے میری خیر و خبر اب مجھے جھوٹ بولنا ہوگا

مزید پڑھیے
صفحہ 3915 سے 4657