سامنے شاہ وقت کے اسلمؔ کون کہے یہ بات
سامنے شاہ وقت کے اسلمؔ کون کہے یہ بات چور نہ تھے فن کار تھے ہم پھر کاٹ لیے کیوں ہات اس کا شیوہ اس کی فطرت رشتوں کی توہین ننگ انسانیت ہیں سب اس کے احساسات کنڈلی مارے بیٹھا ہوا تھا اس کی ذات میں کھوٹ آ کر واپس ہو جاتی تھی رشتوں کی سوغات میری خموشی پر طاری ہے کیسا عالم کشف دشت بدن ...