کوئی آ کر نہیں جاتا دلوں کے آشیانوں سے
کوئی آ کر نہیں جاتا دلوں کے آشیانوں سے رہائی کا کوئی رستہ نہیں ان قید خانوں سے مچھیرے کشتیوں میں بیٹھ کر کے گا رہے ہیں گیت ہوائیں مسکرا کر مل رہی ہیں بادبانوں سے زمیں والوں نے جب سے آسماں کی اور دیکھا ہے پرندے خوف کھانے لگ گئے اونچی اڑانوں سے یہ سوکھے زخم ہیں یا رنگ ہیں تصویر ...