شاعری

کوئی آ کر نہیں جاتا دلوں کے آشیانوں سے

کوئی آ کر نہیں جاتا دلوں کے آشیانوں سے رہائی کا کوئی رستہ نہیں ان قید خانوں سے مچھیرے کشتیوں میں بیٹھ کر کے گا رہے ہیں گیت ہوائیں مسکرا کر مل رہی ہیں بادبانوں سے زمیں والوں نے جب سے آسماں کی اور دیکھا ہے پرندے خوف کھانے لگ گئے اونچی اڑانوں سے یہ سوکھے زخم ہیں یا رنگ ہیں تصویر ...

مزید پڑھیے

تمہاری شکل کسی شکل سے ملاتے ہوئے

تمہاری شکل کسی شکل سے ملاتے ہوئے میں کھو گیا ہوں نیا راستہ بناتے ہوئے مرا نصیب کہ پت جھڑ میں کھل گئے ہیں پھول وہ ہاتھ آ لگا ہے ہاتھ آزماتے ہوئے میں جھوٹ بول دوں لیکن برا تو لگتا ہے تمہارے شعر کسی اور کو سناتے ہوئے اتر کے شاخ سے اوروں میں ہو گیا آباد کہ عمر کاٹ دی جس پھول کو ...

مزید پڑھیے

تمہارے ساتھ یہ قصہ کبھی کبھار کا ہے

تمہارے ساتھ یہ قصہ کبھی کبھار کا ہے مگر یہ ہجر مرے ساتھ بار بار کا ہے ہمارے درمیاں اک شک کی فلم ہے جس میں کہیں کہیں پہ کوئی سین اعتبار کا ہے یہ تیری ہم پہ عنایت ہے یا چمن میں کسی خزاں نصیب کے حصہ میں سکھ بہار کا ہے اگر تو خود کو کھلا چھوڑتا ہے جان بہار تو تجھ پہ حق ترے پہلے ...

مزید پڑھیے

لطف بڑھتا ہے سفر کا دوست کم رفتار سے

لطف بڑھتا ہے سفر کا دوست کم رفتار سے میں بھی خوش ہوتا ہوں تیرے عارضی انکار سے آنکھ لگنے کی ذرا سی دیر تھی بس اور پھر کٹ گیا دریائے شب بھی خواب کے پتوار سے میری قربت میں مرا گھر بھی فسردہ ہو گیا اشک گرنے لگ گئے ہیں دیدۂ دیوار سے ایک میسج نفرتوں پر بار گزرا ہے مری پھول بھیجا ہے ...

مزید پڑھیے

وقت کو خوش نما بناتے ہیں

وقت کو خوش نما بناتے ہیں آئیے قہقہہ بناتے ہیں اس نے سب کچھ بنا کے بھیجا ہے ہم یہاں کیا نیا بناتے ہیں چل خلاؤں میں گھومتے ہیں کہیں چاند پر نقش پا بناتے ہیں دیکھنا ہے نئے یہ کوزہ گر میری مٹی کا کیا بناتے ہیں میں چراغوں میں لو بناتا ہوں دنیا والے ہوا بناتے ہیں

مزید پڑھیے

شہر تاریک کے جلتے ہوئے منظر دیکھو

شہر تاریک کے جلتے ہوئے منظر دیکھو قہقہے مار کے ہنستا ہے ستم گر دیکھو سوکھے پتوں کو ذرا آگ دکھا دو بڑھ کر اور پھر آگ کو امید سے بڑھ کر دیکھو پہلے دیکھو کہ یہ شیشے کا نگر بچ جائے وقت مل جائے تو پھینکے گئے پتھر دیکھو حق کی باتیں مرے حاکم کو بری لگتی ہیں پھر بھی کہتا ہوں کہ آواز ...

مزید پڑھیے

ایک پت جھڑ سا ہے لگا مجھ میں

ایک پت جھڑ سا ہے لگا مجھ میں پھر کوئی گل نہیں کھلا مجھ میں ضبط میں مبتلا مری آنکھیں ایک دریا سا سوکھتا مجھ میں گھر کی کھڑکی سے جھونکنے والا میری آنکھوں سے جھانکتا مجھ میں دل شکستہ میں بھر گئی سیلن کوئی شدت سے رو رہا مجھ میں تیری یادیں بھی کر گئیں ہجرت اب تو کچھ بھی نہیں بچا ...

مزید پڑھیے

دل کی طرح ہی اب مری دنیا خراب ہے

دل کی طرح ہی اب مری دنیا خراب ہے سو اپنا حال ان دنوں اچھا خراب ہے آنسو بہے تو یوں ہوا بینائی بڑھ گئی پھر صاف صاف دکھ گیا کیا کیا خراب ہے پہلے پہل تو میں ترا یک طرفہ عشق تھا اب میرا حال تجھ سے زیادہ خراب ہے دنیا سے تنگ شخص کو اچھی ہے خودکشی غرقاب ہوتے شخص کو تنکا خراب ہے تو عشق سے ...

مزید پڑھیے

ایسی بھی کیا اڑی ہے خبر دیکھ کر مجھے

ایسی بھی کیا اڑی ہے خبر دیکھ کر مجھے سب پھیرنے لگے ہیں نظر دیکھ کر مجھے کیوں چھٹ نہیں رہا ہے سیہ رات کا دھواں کیوں منہ چھپا رہی ہے سحر دیکھ کر مجھے دونوں ہی رو پڑے ہیں سر موسم خزاں میں دیکھ کر شجر کو شجر دیکھ کر مجھے مانوس ہو چکا ہے مری آہٹوں سے گھر کھل جا رہے ہیں آپ ہی در دیکھ کر ...

مزید پڑھیے

ہمارے سر پہ تب کوئی جہاں ہوتا نہیں تھا

ہمارے سر پہ تب کوئی جہاں ہوتا نہیں تھا زمیں ہوتی تھی لیکن آسماں ہوتا نہیں تھا ہم اکثر کھیل میں ہارے ہیں اس سے اس طرح بھی وہیں پر ڈھونڈتے تھے وہ جہاں ہوتا نہیں تھا نکلتے تھے ہمارے بات کے مطلب ہزاروں جو کہنا چاہتے تھے وہ بیاں ہوتا نہیں تھا میں خالی وقت میں ٹوٹے ستارے جوڑتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3913 سے 4657