وہ نخل جو بار ور ہوئے ہیں
وہ نخل جو بار ور ہوئے ہیں آشوب خزاں سے ڈر رہے ہیں شاخوں پہ تیر کے زخم ہیں یہ یا پھر سے گلاب جھانکتے ہیں ظلمت میں بہت ہی یاد آئے وہ چاند جو ہم سفر رہے ہیں لے دست ہوس یہ پھول تیرے کانٹے تو وفا نے چن لئے ہیں بدلا نہ نوشتۂ مقدور مکتوب تو ہم نے بھی لکھے ہیں پامال جہاں ہوئے کہ ہم ...