شاعری

وہ نخل جو بار ور ہوئے ہیں

وہ نخل جو بار ور ہوئے ہیں آشوب خزاں سے ڈر رہے ہیں شاخوں پہ تیر کے زخم ہیں یہ یا پھر سے گلاب جھانکتے ہیں ظلمت میں بہت ہی یاد آئے وہ چاند جو ہم سفر رہے ہیں لے دست ہوس یہ پھول تیرے کانٹے تو وفا نے چن لئے ہیں بدلا نہ نوشتۂ مقدور مکتوب تو ہم نے بھی لکھے ہیں پامال جہاں ہوئے کہ ہم ...

مزید پڑھیے

خدا گر میرے ہاتھوں میں دلاسے کی چلم بھرتا

خدا گر میرے ہاتھوں میں دلاسے کی چلم بھرتا میں اہل ہجر کے ٹھنڈے پڑے سینوں میں دم بھرتا اگر مجھ کو کسی کے حسن کا موسم نہ راس آتا میں دل کے سارے خانوں میں تری فرقت کے غم بھرتا مصور میں حسیں لگتا ترے سب شاہکاروں سے تو مجھ میں رنگ تو بھرتا بھلے اوروں سے کم بھرتا بہت تھک کر سوال وصل ...

مزید پڑھیے

دل کو اب ہجر کے لمحات میں ڈر لگتا ہے

دل کو اب ہجر کے لمحات میں ڈر لگتا ہے گھر اکیلا ہو تو پھر رات میں ڈر لگتا ہے ایک تصویر سے رہتا ہوں مخاطب گھنٹوں جب بھی تنہائی کے حالات میں ڈر لگتا ہے میری آنکھوں سے مرے جھوٹ عیاں ہوتے ہیں اس لیے تجھ سے ملاقات میں ڈر لگتا ہے لمحۂ قرب میں لگتا ہے بچھڑ جائیں گے ہاتھ جب بھی ہو ترے ...

مزید پڑھیے

اب اور دم نہ گھٹے روشنی کا کمرے میں (ردیف .. و)

اب اور دم نہ گھٹے روشنی کا کمرے میں دریچے وا ہوں اجالوں کی دوڑ پوری ہو جو خواب آئیں تو دیکھوں تجھے میں جی بھر کے کہ نیند آئے تو خوابوں کی دوڑ پوری ہو کوئی بڑھائے ذرا آسمان کی وسعت میں چاہتا ہوں پرندوں کی دوڑ پوری ہو کسی عذاب سے رک جائے رقص قاتل کا گھروں کو لوٹتے بچوں کی دوڑ پوری ...

مزید پڑھیے

اس کی قربت میں ہوا ہے یہ خسارا میرا

اس کی قربت میں ہوا ہے یہ خسارا میرا آپ پڑھ لیجیے ہر آنکھ میں قصہ میرا ہر نئی سانس پے بنتا ہوں بگڑ جاتا ہوں یہ ہوا ختم ہی کر دے نہ تماشہ میرا اب تو ہونٹوں پے کبھی پھول بھی کھل جاتے ہیں آپ نے ان دنوں دیکھا نہیں چہرہ میرا میں نے رو رو کے اسے غیر کا ہونے نہ دیا اس بلا خیز کو زنجیر تھا ...

مزید پڑھیے

ایک پتھر رکھ لیا ہے سینۂ صد چاک پر

ایک پتھر رکھ لیا ہے سینۂ صد چاک پر ضبط کا پہرہ لگایا دیدۂ نمناک پر کون ہے جس پر نہیں کھلتا مرا دست ہنر کس کی مٹی ایک مدت سے رکھی ہے چاک پر چار دن میں ہی حقیقت کی زمیں پر آ گرا چار دن میں بھی اڑا تھا عشق کے افلاک پر یہ خزاں پیڑوں سے پتے دل سے خوشیاں لے گئی زور کچھ بھی چل نہ پایا ...

مزید پڑھیے

راہبر راہنما کوئی نہیں ہوتا ہے

راہبر راہنما کوئی نہیں ہوتا ہے راہ الفت میں سگا کوئی نہیں ہوتا ہے مجھ کو خلوت میں بھی تم یاد نہیں آتے ہو خود پسندی سے برا کوئی نہیں ہوتا ہے دکھ کے موسم میں دلاسے کے لیے میرے ساتھ یا تو میں ہوتا ہوں یا کوئی نہیں ہوتا ہے ہم یتیموں کو دعا راس نہیں آتی ہیں ہم یتیموں کا خدا کوئی نہیں ...

مزید پڑھیے

شب سیاہ گزرتی ہے کن عذابوں میں

شب سیاہ گزرتی ہے کن عذابوں میں بکھرتے شہر کے منظر ہیں میرے خوابوں میں یہ آپ گنیے کی لاشیں کدھر زیادہ ہیں میں تنگ دست ہوں اس طرح کے حسابوں میں لکھا ہوا تھا کہ اک دوسرے سے پیار کرو جلے گھروں سے ملی ادھ جلی کتابوں میں سکوں کا کوئی بھی لمحہ ہمیں نصیب نہیں خوشی کی کوئی بھی سرگم نہیں ...

مزید پڑھیے

تقدیر کب تلک یہ رکھے گی ڈھلان میں

تقدیر کب تلک یہ رکھے گی ڈھلان میں تدبیر لے اڑے گی مجھے آسمان میں اب اور صبر کا تجھے کیا چاہئے خراج میں نے تو اپنی جان بھی دے دی لگان میں اس کا بھی آج بیٹا ہوا موت کا شکار جو بیچتا تھا نقلی دوائیں دکان میں تفریق کا مریض تعصب کا ہو شکار ایسا نہیں ہے کوئی میرے خاندان میں شہر ادب ...

مزید پڑھیے

بندگی کیوں نہ راس آتی ہے

بندگی کیوں نہ راس آتی ہے کیا یہ نمرود کی خدائی ہے چاندنی اوڑھ کر جو نکلا ہے جیب اس کی وفا سے خالی ہے زندگی اب کہاں کرے فریاد آبرو حادثوں نے لوٹی ہے راز چھپتا نہیں چھپانے سے آج گھر گھر میں گھر کا بھیدی ہے یہ ہے تیرا فریب اے ساحل میری کشتی بھنور میں ڈوبی ہے جنگ میں آئے گا مزا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3912 سے 4657