شاعری

کشتیاں اس کی بادباں اس کا

کشتیاں اس کی بادباں اس کا ہے ہواؤں کو امتحاں اس کا وہ جو لمحہ ابھی نہیں آیا وصل میں خوف درمیاں اس کا وہ پرندہ ہے لوٹ آئے گا اس زمیں پر ہے آشیاں اس کا وہ مری طرح سوچ کر دیکھے میری تنہائی ہے زیاں اس کا قریۂ جاں مہک مہک اٹھا کیا تصور ہے گل فشاں اس کا ایک اک حرف ہے مری تخلیق نام ہے ...

مزید پڑھیے

اپنا ماحول نفسیات سمجھ

اپنا ماحول نفسیات سمجھ بات کرنے سے پہلے بات سمجھ کون کب کس لیے کہاں ہوگا رابطے اور تعلقات سمجھ موج دریا شمار کرنے میں قطرے قطرے کے مضمرات سمجھ بد گمانی کا تیز رو دریا توڑ دے گا حصار ذات سمجھ زندگی کے مزاج میں شامل ایک اک سانس حادثات سمجھ

مزید پڑھیے

گریہ کرتا ہے کبھی چپ کبھی ہنستا ہے وہی

گریہ کرتا ہے کبھی چپ کبھی ہنستا ہے وہی میری وحشت مری حیرت کو سمجھتا ہے وہی کبھی خوشبو کبھی بادل کبھی موج دریا میرے اشعار میں سو رنگ بدلتا ہے وہی کوئی گزرا تھا دبے پاؤں جہاں سے اک دن راستہ خواب کی دہلیز سے ملتا ہے وہی دن کے ہنگاموں میں سورج سے رفاقت اس کی رات پھر چاند ستاروں سے ...

مزید پڑھیے

نکہت و نور کا سیلاب تھا چاروں جانب

نکہت و نور کا سیلاب تھا چاروں جانب میں اکیلا تھا مرا خواب تھا چاروں جانب وصل کا نشہ رگ و پے میں سمندر جیسا اک بدن صورت مہتاب تھا چاروں جانب ہمرہی نے تری کھولے تھے رموز ہستی آنکھ بھر منظر شاداب تھا چاروں جانب تھا سماعت پہ وہی فقروں کا بوجھل شب خوں میں بھی تھا حلقۂ احباب تھا ...

مزید پڑھیے

جب ہمیں اذن تماشا ہوگا

جب ہمیں اذن تماشا ہوگا تو کہاں انجمن آرا ہوگا ہم نہ پہنچے سر منزل تو کیا ہم سفر کوئی تو پہنچا ہوگا اڑتی ہوگی کہیں خوشبوئے خیال گل معنی کہیں کھلتا ہوگا ہر گل و برگ ہے اک نقش قدم کون اس راہ سے گزرا ہوگا لب تصویر پہ گویا ہے سخن کوئی سن لے تو تماشا ہوگا اب بھی گل پوش دریچے کے ...

مزید پڑھیے

کچھ تو غم خانۂ ہستی میں اجالا ہوتا

کچھ تو غم خانۂ ہستی میں اجالا ہوتا چاند چمکا ہے تو احساس بھی چمکا ہوتا آئینہ خانۂ عالم میں کھڑا سوچتا ہوں میں نہ ہوتا تو یہاں کون سا چہرہ ہوتا خود بھی گم ہو گئے ہم اپنی صداؤں کی طرح دشت فرقت میں تجھے یوں نہ پکارا ہوتا حسن اظہار نے رعنائی عطا کی غم کو گل اگر رنگ نہ ہوتا تو شرارہ ...

مزید پڑھیے

وہ رنگ اڑے ہیں کچھ اب کے برس بہاروں کے

وہ رنگ اڑے ہیں کچھ اب کے برس بہاروں کے کہ دل میں نقش ابھرتے ہیں برف زاروں کے یہ دشت دل یہ بہ ہر سو غبار تنہائی کہاں گئے وہ چمن اجنبی اشاروں کے الجھ گئے ہیں کسی موج اضطراب میں پھر وہ خواب رنگ میں ڈوبے ہوئے کناروں کے چلو کہ اس سے کوئی صاف صاف بات کریں کہ اب تو کھل ہی گئے بھید ...

مزید پڑھیے

ایک سمندر ایک کنارہ ایک ستارا کافی ہے

ایک سمندر ایک کنارہ ایک ستارا کافی ہے اس منظر میں اس کے علاوہ کوئی اکیلا کافی ہے دینے والا جھولیاں بھر بھر دیتا ہے تو اس کا کرم لینے والے کب کہتے ہیں داتا اتنا کافی ہے ایک غلط انداز نظر سے گلشن گلشن داغ جلیں شبنم شبنم رلوانے کو ایک ہی جملہ کافی ہے خشک لبوں پر پیاس سجائے بحر ...

مزید پڑھیے

اک برگ برگ دن کی خبر چاہئے مجھے

اک برگ برگ دن کی خبر چاہئے مجھے میں شاخ شب زدہ ہوں سحر چاہئے مجھے میری طلب دہکتے الاؤ نہ تھے کبھی انبار خس ہوں ایک شرر چاہئے مجھے کب تک سلگتی ریت پہ بے حس پڑا رہوں اس گل زمیں کی سمت سفر چاہئے مجھے سو بار جسم و جاں کو بنانا پڑا سوال اس تجربے سے اب تو حذر چاہئے مجھے وہ ربط دوستی ...

مزید پڑھیے

اب اور چلنے کا اس دل میں حوصلہ ہی نہ تھا

اب اور چلنے کا اس دل میں حوصلہ ہی نہ تھا کہ شہر شب میں اجالے کا شائبہ ہی نہ تھا میں اس گلی میں گیا لے کے زعم رسوائی مگر مجھے تو وہاں کوئی جانتا ہی نہ تھا گداز جاں سے لیا میں نے پھر غزل کا سراغ کہ یہ چراغ تو جیسے کبھی بجھا ہی نہ تھا کوئی پکارے کسی کو تو خود ہی کھو جائے ہوا تو ہے مگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3911 سے 4657