شاعری

شب فراق میں مرے وہ بال و پر کتر گیا

شب فراق میں مرے وہ بال و پر کتر گیا پرند اس کی یاد کا نئی اڑان بھر گیا یہاں پہ خون بہہ گیا وہاں پہ لاش گر پڑی نہ جانے کون شخص تھا سفر تمام کر گیا کسی کی نیند ٹوٹتی کوئی تو رات جاگتا اسی نگر میں رات کو کسی کا خواب مر گیا نہ طائروں کا غول ہی ہماری چھت پہ آ رکا نہ اپنے گھر کے سامنے وہ ...

مزید پڑھیے

عشق میں کوئی ہمسری کرتا

عشق میں کوئی ہمسری کرتا ہم کو الزام سے بری کرتا ایک بوتل میں وہ سما جاتی اس کو جادو سے میں پری کرتا چھیڑ معصوم سی چلا کرتی وہ بھی ہنس ہنس کے دلبری کرتا اس نے جنگل جلا دیے لیکن شاخ اک پیڑ کی ہری کرتا چاند آتا جو روز آنگن میں ساتھ میرے سخن وری کرتا شاعری ہم پہ چھوڑ دینی تھی مرزا ...

مزید پڑھیے

ان گنت پیڑ تھے پیڑوں پہ جھکا تھا بادل

ان گنت پیڑ تھے پیڑوں پہ جھکا تھا بادل میرے بچپن میں یہاں پر تھا گھنا سا جنگل گود میں ماں کی پڑا رہتا کہانی سنتا کوئی طوطا کسی مینا کے لگاتا کاجل یہی سورج تھا اسی طرح دہکتے دن تھے میرے سر پر سے نہ بنتا کبھی ماں کا آنچل میری نظروں میں وہ چھوٹی سی گلی ہے اب تک میرے آنے پہ وہ چپکے سے ...

مزید پڑھیے

آس میں کاٹے بیس برس اور یاس میں کاٹے بیس برس

آس میں کاٹے بیس برس اور یاس میں کاٹے بیس برس کچھ نہ پوچھو ہم نے کیسے کاٹے ہیں چالیس برس جس نے ہم کو عشق سکھایا جس سے سمجھے سارے گر اس کی عمر تھی سولہ سترہ اپنی تھی اکیس برس آتے جاتے ہر موسم میں اس کا جادو قائم ہے بیس برس سے دیکھ رہا ہوں لگتی ہے انیس برس میرا جسم بھی سوکھ چلا ہے ...

مزید پڑھیے

میں سپیدے کا پیڑ ہوں لیکن

میں سپیدے کا پیڑ ہوں لیکن برف نے میری ٹہنیاں توڑیں اس کے پردے ہوا ہلا پاتی میرے کمرے کی کھڑکیاں توڑیں میرے بچپن میں ایک بوڑھا تھا اس کے بیٹوں نے لکڑیاں توڑیں وہ اترنے سے خوف کھاتا تھا اس نے چڑھتے ہی سیڑھیاں توڑیں اس حویلی کے لوگ سوئے تھے ہم نے دستک میں انگلیاں توڑیں اسپ ...

مزید پڑھیے

جب اس نے واپسی کے راستے رکھے ہوئے ہیں

جب اس نے واپسی کے راستے رکھے ہوئے ہیں نظر میں ہم نے بھی کچھ زاویے رکھے ہوئے ہیں یہ کیسا کھیل ہے تیری گلی کے باسیوں نے منڈیروں پر سجا کر آئنے رکھے ہوئے ہیں مزا اب زندگی کا ہم کو بھی آنے لگا ہے کہ ہم نے دوستوں سے فاصلے رکھے ہوئے ہیں وفا کے راستے میں آج بھی وہ مشکلیں ہیں کنارے پر ...

مزید پڑھیے

ہے کبھی دل کبھی نگاہ سے جنگ

ہے کبھی دل کبھی نگاہ سے جنگ روز اک خواہش گناہ سے جنگ روز غم کے نئے محاذ پہ ہوں روز لڑنا نئی سپاہ سے جنگ چار سو گرم ہے محاذ کوئی کہیں منصف کہیں گواہ سے جنگ مدتوں سے یہی تماشا ہے خواہشوں کی دل تباہ سے جنگ سنگ بھی ہاتھ میں نہیں کوئی چھڑ گئی ہے سگان راہ سے جنگ میرے اندر سے کوئی ...

مزید پڑھیے

ٹھہر گیا ہے ایک ہی منظر کمرے میں

ٹھہر گیا ہے ایک ہی منظر کمرے میں میں تیری تصویر دسمبر کمرے میں میں تیری یادوں کی بارش تیز ہوا تنہا بھیگ رہا ہے بستر کمرے میں میں دریا کے پار کی سوچ رہا ہوں اور در آیا ہے ایک سمندر کمرے میں لے آئی ہے گلیوں میں اک آگ مجھے چھوڑ آیا ہوں ٹھنڈا بستر کمرے میں خوف زدہ ہیں گھر کی ساری ...

مزید پڑھیے

سختیوں سے گزر رہا ہوں میں

سختیوں سے گزر رہا ہوں میں گویا قسطوں میں مر رہا ہوں میں دوستوں کی نوازشیں توبہ اپنے سایہ سے ڈر رہا ہوں میں ظلمتوں کا غرور ٹوٹے گا نور بن کر ابھر رہا ہوں میں ایک عالم تو یوں بھی گزرا ہے آپ سے بے خبر رہا ہوں میں کوئی آ کر سمیٹ لے مجھ کو ریزہ ریزہ بکھر رہا ہوں میں چن کے کانٹے ...

مزید پڑھیے

کیوں یہ حسن نظر دیا تو نے

کیوں یہ حسن نظر دیا تو نے وقف آلام کر دیا تو نے مندمل جو کبھی نہ ہو پائے ایسا زخم جگر دیا تو نے کون منصور جو چڑھے سولی یوں تو سب کو جگر دیا تو نے ڈوبتی نبض کرب سناٹے اور حکم سفر دیا تو نے زندگی چھاؤں کو ترستی ہے کیسا جلتا سفر دیا تو نے تاج بنتے ہی ہاتھ کٹتے ہیں کیسا دست ہنر دیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3835 سے 4657