شاعری

جو گھر کی بات باہر بولتا ہے

جو گھر کی بات باہر بولتا ہے وہ میرا ہی برادر بولتا ہے اجالے اب ہمیں ڈسنے لگے ہیں سکوت شب کا منظر بولتا ہے جلیں گے ان غریبوں کے مکاں پھر یہاں کا ہر ستم گر بولتا ہے موثر ہو جو انداز تخاطب پڑا راہوں میں پتھر بولتا ہے کسی کا قتل ہوگا پھر یقیناً چھپا ہاتھوں میں خنجر بولتا ہے رویہ ...

مزید پڑھیے

اب تحفظ نہیں ہے جانوں کا

اب تحفظ نہیں ہے جانوں کا یہ ہے احسان حکمرانوں کا بھوک افلاس اور بیماری مسئلہ ہے کئی گھرانوں کا ساری بستی نگل گیا طوفاں کیا چلے گا پتا مکانوں کا ہو گیا کتنا لالچی انساں بن گیا سانپ وہ خزانوں کا تولتے ہیں پروں کو وہ اپنے علم جن کو نہیں اڑانوں کا صرف باقی رہا کتابوں میں ذکر اب ...

مزید پڑھیے

کبھی ناکامیوں کا اپنی ہم ماتم نہیں کرتے

کبھی ناکامیوں کا اپنی ہم ماتم نہیں کرتے مقدر میں جو غم لکھے ہیں ان کا غم نہیں کرتے تمہارے نقش پا پر جو نگاہیں اپنی رکھتے ہیں وہ سر دیر و حرم کے سامنے بھی خم نہیں کرتے گھٹاؤں کو برسنے کا اشارہ ہی نہیں ملتا وہ جب تک زلف اپنے دوش پر برہم نہیں کرتے مسائل دور حاضر کے ہیں موضوع غزل ...

مزید پڑھیے

پیڑ آنگن کے ترے جب بارور ہو جائیں گے

پیڑ آنگن کے ترے جب بارور ہو جائیں گے دوستوں کے ہاتھ کے پتھر ادھر ہو جائیں گے میرے اشکوں کے یہ قطرے لاکھ بے قیمت سہی جب ترے دامن پہ ٹپکیں گے گہر ہو جائیں گے کیا خبر تھی ہم ادھر گھر میں جلائیں گے چراغ اس طرف جھونکے ہوا کے با خبر ہو جائیں گے اس جہان بے اماں میں برگ آوارہ ہیں ہم جب ...

مزید پڑھیے

ہمارے کام الٹے پڑ گئے ہیں

ہمارے کام الٹے پڑ گئے ہیں سبھی کے سرد لہجے پڑ گئے ہیں تمہاری بات سنتے ہی اچانک مرے سب رنگ پھیکے پڑ گئے ہیں کسی تصویر پر ہے کام جاری کئی آنکھوں پہ حلقے پڑ گئے ہیں تری آنکھوں کا پیچھا کرتے کرتے مرے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے ہیں تمہاری کر رہیں ہیں جب سے غیبت در و دیوار نیلے پڑ گئے ...

مزید پڑھیے

بڑی مشکل سے کی تھی یار ہمت تجھ کو کھونے کی

بڑی مشکل سے کی تھی یار ہمت تجھ کو کھونے کی بتا کیا شرط ہے تیری ذرا نزدیک ہونے کی چلے آتے ہیں تیرے گاؤں جب یہ دل تڑپتا ہے ضرورت ہی نہیں پڑتی ہے مجھ کو رونے دھونے کی خوشی سے سر جھکا لیتا ہوں جب یہ یاد آتا ہے مری ماں نے نصیحت کی تھی مجھ کو مٹی ہونے کی کوئی بے چینی لاحق ہے کہ آنکھیں ...

مزید پڑھیے

کوئی مرتا نہیں خساروں سے

کوئی مرتا نہیں خساروں سے ہم نے سیکھا ہے آبشاروں سے جو مزاجاً یزید ہوتے ہیں دور رہتا ہوں ایسے یاروں سے بے زبانوں سے بات کرنی تھی کام لینا پڑا اشاروں سے تیرے لہجے کا ذائقہ بھی دوست آخرش جا ملا اناروں سے درس ہے یہ ہمارے آقا کا پیار کرنا ہے بے سہاروں سے

مزید پڑھیے

تڑپتے دل کو کافی ہے بس اتنا واہمہ رکھنا

تڑپتے دل کو کافی ہے بس اتنا واہمہ رکھنا بچھڑنے والا لوٹے گا ہمیشہ حوصلہ رکھنا چلے جائیں گے ہم بھی دوستو دنیائے فانی سے فقط اتنی گزارش ہے دعا کا سلسلہ رکھنا کہ ہم بد بخت لوگوں میں بس اک یہ ہی برائی ہے دعائیں دیر سے لگتی ہیں جانی حوصلہ رکھنا تمہیں خوشیاں مبارک ہوں ہمارے غم ...

مزید پڑھیے

جانے کس خاک سے بنا ہے وہ

جانے کس خاک سے بنا ہے وہ جھوٹ پر جھوٹ بولتا ہے وہ عادی مجرم ہیں ہم محبت کے ہم سے پوچھو کہاں بکا ہے وہ لڑ کے میسج کرے گا سوری کا ایسے پہلے بھی کر چکا ہے وہ کیا ہمیں بھی معاف کر دے گا رکھ رکھاؤ تو جانتا ہے وہ اس کمینے کی بات کرتے ہو خیر ہم کو تو مانتا ہے وہ کوزہ خود بول کر بتائے ...

مزید پڑھیے

خیال و خواب تک تازہ رہیں گے جو بھی ہوگا

خیال و خواب تک تازہ رہیں گے جو بھی ہوگا جئیں گے اور تری خاطر مریں گے جو بھی ہوگا تری ناراضگی بھی ختم کرنی ہے ابھی تو تماشا سادھ کر جوکر بنیں گے جو بھی ہوگا تمہارے بن گزارا ہے تو مشکل یار پھر بھی کسی صورت بھی لیکن ہم کریں گے جو بھی ہوگا تری یادوں کے جلتے دیپ ہیں ان طاقچوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3836 سے 4657