شاعری

ہمیں جب کام سے فرصت ملے گی

ہمیں جب کام سے فرصت ملے گی تمہیں اس وقت ہی چاہت ملے گی جنازے پر ضرور آنا ہمارے وہاں تم کو نئی عبرت ملے گی ہماری دھڑکنوں کو سننے والے یہاں ہر پل تمہیں حیرت ملے گی روایت سے بھلا کب منحرف ہیں ان آنکھوں میں مگر جدت ملے گی تمہارا نام کتبے پر لکھا ہے ہماری قبر کو شہرت ملے ...

مزید پڑھیے

دلوں پر حکمرانی ہے اسی کی

دلوں پر حکمرانی ہے اسی کی یہ قصہ اور کہانی ہے اسی کی یہاں قبضہ نہ کرنا بھول کر بھی یہاں بس راجدھانی ہے اسی کی کہ ہم بد بخت لوگوں میں یقیناً یہ ساری کامرانی ہے اسی کی تبھی تو شہر سارا جا رہا ہے مری جاں میزبانی ہے اسی کی یہ پھولوں کے نئے پیغام آنا یقیناً مہربانی ہے اسی کی سبھی ...

مزید پڑھیے

پھول کلیاں بھی ہم بچھائیں گے

پھول کلیاں بھی ہم بچھائیں گے دل کی دھرتی کو یوں سجائیں گے ہجر کاٹیں گے اور خوشی کے ساتھ ایک دو یار بھی بنائیں گے پیار آفت ہے اس زمانے میں ہر نئے شخص کو بتائیں گے منتیں بعد میں کریں گے تری پہلے تھوڑا سا حق جتائیں گے اپنے ہاتھوں میں سبز پرچم ہے امن کے گیت گنگنائیں‌ گے بوسہ لیں ...

مزید پڑھیے

خوشی سے جھومتی پھرتی ہے اور پھر مسکراتی ہے

خوشی سے جھومتی پھرتی ہے اور پھر مسکراتی ہے مری تازہ غزل وہ یاد کر کے گنگناتی ہے تمہیں سگریٹ سے نفرت ہے تو یہ کیوں بھول بیٹھے تم تمہیں جس سے محبت ہے اسے سگریٹ بچاتی ہے نہیں معلوم میرا حافظہ کس سمت رہتا ہے مگر وہ یاد رکھتی ہے جنم دن تک مناتی ہے اسے بجھتے دیوں سے اتنی الجھن ہے کہ ...

مزید پڑھیے

یہ سنتے ہی خوشی سے ہم بھی پیچھے آ گئے ہیں

یہ سنتے ہی خوشی سے ہم بھی پیچھے آ گئے ہیں وہ صاف انداز میں سب کچھ ہمیں فرما گئے ہیں سہولت سے کنارا کر کے کار خیر میں بھی ستم سارے ہماری ذات پر وہ ڈھا گئے ہیں اک ایسا حادثہ در پیش آیا تھا یہاں پر پرندے ہی نہیں اشجار بھی گھبرا گئے ہیں بھلانے کا کوئی بھی راستہ چھوڑا نہیں ہے ارے ...

مزید پڑھیے

ٹکڑے ٹکڑے جب بٹ جاؤں شام گئے

ٹکڑے ٹکڑے جب بٹ جاؤں شام گئے دن کا سارا قرض چکاؤں شام گئے گھر سے چلتے میں نے اکثر سوچا ہے شاید ہی میں لوٹ کے آؤں شام گئے سارا دن اس الجھن ہی میں بیت گیا کیسے اپنا دل بہلاؤں شام گئے دھوپ کے مارے لوگوں کو بھی صحرا میں مل جاتی ہے پیڑ کی چھاؤں شام گئے کس کاندھے پر اشک بہاؤں شام ...

مزید پڑھیے

یہاں تو شہر سے دیوار و در ہی غائب ہیں (ردیف .. ا)

یہاں تو شہر سے دیوار و در ہی غائب ہیں چھتوں کے بعد مکانوں کو لے اڑی ہے ہوا تمام شہر تھا سڑکوں پہ آج رات گئے سنا ہے پھر سے جوانوں کو لے اڑی ہے ہوا سفر ہے رات کا صحرا سے واپسی کیسی تمہارے سارے نشانوں کو لے اڑی ہے ہوا چلے گی وقت کی آندھی تو کس کو بخشے گی نہ جانے کتنے زمانوں کو لے اڑی ...

مزید پڑھیے

سیپی سادہ منہ جب کھولے کرنوں کی تب بارش ہو (ردیف .. ل)

سیپی سادہ منہ جب کھولے کرنوں کی تب بارش ہو موتی کی دو مالائیں اور ان پر چمکے گنگا جل کالی لٹ ہے ناگن جیسی کان کی لوہے اس کا پھن اس کی نظروں میں دھوکا ہے اس کی باتوں میں ہے چھل اس کا چلنا جیسے ہلنا پھولوں کی اک ڈالی کا شاخ کمر ہے نازک ایسے لہراتی یا کھاتی بل آج مدھر ہے لہجہ تیرا ...

مزید پڑھیے

جہاں ہم تمہاری پناہوں میں تھے

جہاں ہم تمہاری پناہوں میں تھے وہاں سبز سائے بھی راہوں میں تھے میاں دھول آنکھوں میں جھونکی گئی کئی لوگ میری نگاہوں میں تھے وہی محتسب ہیں انہیں کیا کہیں وہ شامل ہمارے گناہوں میں تھے زمانہ مرے ساتھ تب بھی نہ تھا مگر تم مرے خیر خواہوں میں تھے کہیں پر تو بجلی گری ہے ایازؔ کئی ...

مزید پڑھیے

چھتیں اڑی ہیں دراڑیں پڑیں مکانوں میں

چھتیں اڑی ہیں دراڑیں پڑیں مکانوں میں ستم کی گھاس اگی ہے نگار خانوں میں لہو لہو تھا بدن اس کا ہاتھ ٹوٹے تھے حنا حنا وہ پکاری تھی آستانوں میں گھروں میں آج وہ کرب و بلا کا منظر تھا کہ سہمے سہمے پرندے تھے آشیانوں میں وہ جن کے نام پہ نکلیں گی کل کی تعبیریں کئے ہیں خواب مقفل وہ قید ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3834 سے 4657