شاعری

یہ کس مقام پہ پہنچا ہے کاروان وفا (ردیف .. ن)

یہ کس مقام پہ پہنچا ہے کاروان وفا ہے ایک زہر سا پھیلا ہوا فضاؤں میں نشان راہ کی رکھتے تو ہیں خبر لیکن زباں پہ تالے ہیں اور بیڑیاں ہیں پاؤں میں پھرے ہیں مدتوں انسان کی تلاش میں ہم وہ شہر میں نظر آیہ ہمیں نہ گاؤں میں سر نیاز بھی اپنا کبھی نہ خم ہوگا جھلک غرور کی ہے آپ کی اداؤں ...

مزید پڑھیے

سحاب فصل گل ہے برگ آوارہ نہیں ہے وہ

سحاب فصل گل ہے برگ آوارہ نہیں ہے وہ چلو مانا کسی کی آنکھ کا تارا نہیں ہے وہ چراغ رہ گزر ہے راستی ہے اس کی فطرت میں خلاؤں میں بھٹکنے والا سیارہ نہیں ہے وہ دکانیں مت سجاؤ قیمتی جذبوں کو مت بیچو غزل کا پھول ہے کاغذ کا پشتارہ نہیں ہے وہ ہم اپنی پیاس لے کر غم کے صحرا میں بھٹکتے ...

مزید پڑھیے

دھواں دھواں ہے غم گردش سفر سے چراغ

دھواں دھواں ہے غم گردش سفر سے چراغ عجیب سہمے ہوئے ہیں ہوا کے ڈر سے چراغ عجب طلسم کدہ ہے یہ جبر فطرت کا کہ روشنی میں رہے روشنی کو ترسے چراغ یہ خامشی کا بیاباں یہ شب کا کوہ سکوت یہ خواب خواب سا منظر یہ بے خبر ہے چراغ یہ وقت ایسا سمندر کہ جس کے دامن میں صدف صدف سی ہیں راتیں گہر گہر ...

مزید پڑھیے

زہر غم بے مزا نہیں ہوتا

زہر غم بے مزا نہیں ہوتا پھر بھی کیوں حوصلہ نہیں ہوتا دیکھ لیتا ہے مجھ میں عکس اپنا اور وہ خود آئنہ نہیں ہوتا سارے رشتے چراغ جلنے تک پھر کوئی آشنا نہیں ہوتا مصلحت بن گئی ہے مہر سکوت اب کوئی لب کشا نہیں ہوتا لب نہ کھولو کہ لوگ کہتے ہیں اس زمانے میں کیا نہیں ہوتا کیا ہنسے کوئی ...

مزید پڑھیے

سورج سر کے اوپر ہے

سورج سر کے اوپر ہے قدموں میں اپنا سر ہے آنکھیں نم دامن تر ہے دل کی پیاس سمندر ہے ہنگامہ سب اندر ہے منظر پھر بھی منظر ہے چیختے دریاؤں کا جنوں اپنی حد سے باہر ہے فطرت کا ہے سحر کہ دل آئینہ ہے پتھر ہے ہم بھی ایک پرندے ہیں برگ شجر اپنا گھر ہے عزت شہرت رسوائی جو بھی ہے جرأت بھر ...

مزید پڑھیے

حاصل زیست ضیائے خط تقدیر ہو تم

حاصل زیست ضیائے خط تقدیر ہو تم بزم احساس میں بکھری ہوئی تنویر ہو تم کیا ہوا لب پہ تبسم نہیں دلگیر ہو تم کس مصور کی بنائی ہوئی تصویر ہو تم اف یہ قامت یہ قد آرائی یہ زیبائش رنگ نقش مانی ہو کہ بہزاد کی تصویر ہو تم اپنے ہاتھوں سے تراشا ہے تمہارا پیکر پھر بھی میرے لئے ناقابل تسخیر ...

مزید پڑھیے

منتشر منتشر ہیں خواب بہت

منتشر منتشر ہیں خواب بہت روشنی بن گئی عذاب بہت دل سلامت تو روشنی کے لئے آفتاب اور ماہتاب بہت قطرے قطرے میں ہے طلسم ہزار ذرے ذرے میں ہے سیراب بہت عشرت تابش گہر نہ سہی انبساط سرشک ناب بہت اک ہمیں تو نہیں ہیں خاک بسر ہم سے ہیں خانماں خراب بہت دھوپ سے تمتما رہا ہے وجود ہے ابھی ...

مزید پڑھیے

فرحت بوئے سمن نکہت ریحان غزل

فرحت بوئے سمن نکہت ریحان غزل تجھ سے روشن ہے مری شمع شبستان غزل بوئے گل لے کے صبا آئی گھٹائیں چھائیں پھر اٹھا قلزم جذبات میں طوفان غزل آسماں چاند ستاروں سے سجا شمع جلی شام کیا آئی کہ روشن ہوا ایوان غزل ظلم ہے ریشمیں احساس پہ خنجر رکھنا نکتہ چیں ہوش کہ نازک ہے رگ جان غزل ذرہ ...

مزید پڑھیے

تم ہو قطرہ تو قدم حد سے نہ باہر رکھنا

تم ہو قطرہ تو قدم حد سے نہ باہر رکھنا دل مگر سات سمندر کے برابر رکھنا زیب دیتی تو ہے دستار مگر سرو قدو سر ذرا طرۂ دستار سے باہر رکھنا جستجو اپنی ضرورت ہے طلب اپنی غرض کام اپنا ہے تو کیوں بار کسی پر رکھنا زہر احساس کی تلخی لئے گھر مت جانا دن تو کجلایا مگر رات منور رکھنا چارپائی ...

مزید پڑھیے

دوں میں تسکین روح کو اپنی

دوں میں تسکین روح کو اپنی مجھ کو کوئی خبر تو دو اپنی مسکرانا بنا ہے تیرے لیے مستیوں میں مگن رہو اپنی جو منافق ہیں ان سے دور رہو دھڑکنوں کی سدا سنو اپنی تم کو اک اور بھی نصیحت ہے سب کی سن لو مگر کرو اپنی اپنا رونا لگا ہی رہنا ہے تم سناؤ نا کچھ کہو اپنی

مزید پڑھیے
صفحہ 3833 سے 4657