شاعری

کن آوازوں کا سناٹا مجھ میں ہے

کن آوازوں کا سناٹا مجھ میں ہے جو کچھ بھی تجھ میں ہے یا مجھ میں ہے تیری آنکھیں میری آنکھیں لگتی ہیں سوچ رہا ہوں کون یہ تجھ سا مجھ میں ہے ہر موسم نے تیرے در پر دستک دی آخری دستک دینے والا مجھ میں ہے دل کی مٹی لہو بنا کر چھوڑے گا یہ جو کانچ کا چلتا ٹکڑا مجھ میں ہے جس دریا کا ایک ...

مزید پڑھیے

اک تم کہ ہو بے خبر سدا کے

اک تم کہ ہو بے خبر سدا کے موسم ہے کہ ہاتھ مل رہا ہے ظاہر میں صبا خرام خوشبو باطن میں نفاق پل رہا ہے اے لذت ہجر یاد رکھنا یہ لمحۂ وصل کھل رہا ہے آئینے میں عکس ڈھل رہا ہے پانی میں چراغ جل رہا ہے آنکھوں میں غبار منزلوں کا قدموں میں سراب چل رہا ہے جیسے کوئی یاد آ رہا ہو آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

چراغ قرب کی لو سے پگھل گیا وہ بھی

چراغ قرب کی لو سے پگھل گیا وہ بھی عذاب ہجر سے میں کیا، نکل گیا وہ بھی ردائے ابر جمال حجاب کیا سرکی کہ انگ انگ ستاروں میں ڈھل گیا وہ بھی دیار خواب میں اک شخص ہم قدم تھا مگر پڑا جو وقت تو رستہ بدل گیا وہ بھی یہ اس کی یاد کا اعجاز تھا کہ اب کے برس جو وقت ہم پہ کڑا تھا سو ٹل گیا وہ ...

مزید پڑھیے

اندھیری رات نوحے گا رہی ہے

اندھیری رات نوحے گا رہی ہے خموشی شہر بھر میں چھا رہی ہے زمیں پر خون اتنا بہہ گیا ہے ہواؤں میں بھی خوشبو آ رہی ہے ہری وادی کا افسوں ٹوٹتا ہے خزاں کچھ رنگ وہ دکھلا رہی ہے کئی لاشوں کی فصلیں کٹ چکی ہیں کہ دھرتی خون میں نہلا رہی ہے گھروں میں شور بھی اب تھم گیا ہے گلی سے فوج بھی اب ...

مزید پڑھیے

چڑھتا دریا اتر گیا میں بھی

چڑھتا دریا اتر گیا میں بھی سر سے پانی گزر گیا میں بھی رات کی تو فصیل اونچی تھی پار کیسے اتر گیا میں بھی اس میں تو بھی تو ٹوٹ پھوٹ گیا ریزہ ریزہ بکھر گیا میں بھی پانچ بجتے ہی لوٹ آتا ہوں اب کے شاید سدھر گیا میں بھی اس چوراہے پہ بھیڑ اتنی تھی تو نہ آیا تو گھر گیا میں بھی تو نے ...

مزید پڑھیے

مری ماں نے مجھ کو جنم جب دیا تھا

مری ماں نے مجھ کو جنم جب دیا تھا میں لاشوں کے انبار پر جا گرا تھا جہاں پر تمہاری ردا چھن گئی تھی وہیں پر ہمارا بھی بازو کٹا تھا یہیں پر اسے جان دینے کی ضد تھی یہیں سے وہ پرچم اٹھائے چلا تھا مجھے سات چہروں کی صورت ملی تھی تذبذب میں ہر اک مجھے دیکھتا تھا میں لوگوں کی اس بھیڑ میں ...

مزید پڑھیے

ہجر تھا یا وصال کس کا تھا

ہجر تھا یا وصال کس کا تھا خواب تھا یا خیال کس کا تھا سامنے وہ ہمارے بیٹھے تھے دل میں ان کے خیال کس کا تھا غیر سے ہم نے مات کھائی تو اس میں کہیے کمال کس کا تھا ہم گرے ہیں اگر بلندی سے در حقیقت زوال کس کا تھا بچ کے نکلے جو لا تعلق تھے بچ نکلنا محال کس کا تھا ریگ ساحل پہ نقش باقی ...

مزید پڑھیے

بھکشو سے خواہشات کا بن مانگتی رہی

بھکشو سے خواہشات کا بن مانگتی رہی کشکول تن میں عمر تپن مانگتی رہی سرگوشیاں سنی تھیں در و بام نے یہاں خالی تھی چارپائی بدن مانگتی رہی وہ لاش اپنی چھوڑ کے بھاگا نہ جانے کیوں اس کی برہنہ لاش کفن مانگتی رہی لے کر چراغ رات کو پھرتی تھی خامشی گنجینۂ حروف سخن مانگتی رہی دیکھا جو ...

مزید پڑھیے

اس نے ہمارے ہاتھ میں اک ہاتھ کیا دیا

اس نے ہمارے ہاتھ میں اک ہاتھ کیا دیا کچھ دیر تو ہتھیلی پہ جلتا رہا دیا میں اس کے انتظار میں کھوئی کچھ اس طرح آنکھیں ہوئیں چراغ تو گھر تھا دیا دیا آنگن میں جیسے ایک چراغاں سا ہو گیا ایسا کہاں سے لائی تھی شب کو ہوا دیا دل کی تمام رونقیں اس کے ہی دم سے تھیں ڈوبا جو چاند ہم نے دیا ہی ...

مزید پڑھیے

متاع فکر و نظر رہا ہوں

متاع فکر و نظر رہا ہوں مثال خوشبو بکھر رہا ہوں میں زندگانی کے معرکے میں ہمیشہ زیر و زبر رہا ہوں شفق ہوں سورج ہوں روشنی ہوں صلیب غم پر ابھر رہا ہوں سجاؤ رستے بچھاؤ کانٹے کہ پا برہنہ گزر رہا ہوں نہ زندگی ہے نہ موت ہے یہ نہ جی رہا ہوں نہ مر رہا ہوں جو میرے اندر چھپا ہوا ہے اس آدمی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3832 سے 4657