شاعری

دستک ہوا کی سن کے کبھی ڈر نہیں گیا

دستک ہوا کی سن کے کبھی ڈر نہیں گیا لیکن میں چاند رات میں باہر نہیں گیا آنکھوں میں اڑ رہا ہے ابھی تک غبار ہجر اب تک وداع یار کا منظر نہیں گیا اے شام ہجر یار مری تو گواہی دے میں تیرے ساتھ ساتھ رہا گھر نہیں گیا تو نے بھی سارے زخم کسی طور سہ لیے میں بھی بچھڑ کے جی ہی لیا مر نہیں ...

مزید پڑھیے

امید کیا تھی اور وہ کیا دے گیا مجھے

امید کیا تھی اور وہ کیا دے گیا مجھے کچھ اپنا کچھ مرا ہی دیا دے گیا مجھے یہ وقت بھی عجیب ہے جو وقفے وقفے سے انداز سوچنے کا نیا دے گیا مجھے اس خوش مزاج دوست کے قربان جائیے ہر زخم مسکرا کے نیا دے گیا مجھے جو میرا ہم سفر تھا بڑا ہی عجیب تھا اپنی جگہ سے اٹھ کے جگہ دے گیا مجھے شاعر ...

مزید پڑھیے

آئے گا انقلاب ذرا دیکھتے رہو

آئے گا انقلاب ذرا دیکھتے رہو ہوگا وہ لا جواب ذرا دیکھتے رہو دار و رسن کی دیکھ لیں زینت بنے گا کون ہو کس کا انتخاب ذرا دیکھتے رہو مخمور آنکھیں اٹھ گئیں جو آسماں کی سمت برسے گی اب شراب ذرا دیکھتے رہو پردہ کئے جو بیٹھے بھری انجمن میں تھے ہوں گے وہ بے نقاب ذرا دیکھتے رہو خط لکھ کے ...

مزید پڑھیے

ہر طرف اضطراب ہے یارو

ہر طرف اضطراب ہے یارو وقت کتنا خراب ہے یارو ایک اک پل میں کرب سے کتنا لمحہ لمحہ عذاب ہے یارو ہر طرف توڑ پھوڑ کی سازش یہ بھی اک انقلاب ہے یارو آج اینٹوں کی سرکشی کے لئے پتھروں کا جواب ہے یارو رہبر وقت وقت کے رہزن کیا عجب انتخاب ہے یارو جینا دشوار زندگی مشکل اک طرح کا عتاب ہے ...

مزید پڑھیے

خیر سے فرض کچھ ادا تو ہو

خیر سے فرض کچھ ادا تو ہو جس سے راضی ترا خدا تو ہو ابر رحمت کو جوش آ جائے لب پہ ایسی کوئی دعا تو ہو روبرو ہوگی خود بخود منزل گامزن کوئی قافلہ تو ہو چھو تو لوں گا بلندیوں کو مگر دل میں پرجوش ولولہ تو ہو درد سے آشنا ہوئے تو کیا درد سے دل بھی آشنا تو ہو ہم تو تسلیم کر ہی لیں لیکن حق ...

مزید پڑھیے

اب یہ کاروبار کریں

اب یہ کاروبار کریں غیروں سے بھی پیار کریں البم کھول کے دیکھیں اور یادوں کو گلزار کریں مر جائے گا اپنی موت دشمن پر کیوں وار کریں کب تک خالی بیٹھیں ہم مل کر ذکر یار کریں چاہت کے ہر جذبے کا برجستہ اظہار کریں سوچ کے اس کے بارے میں جینا کیوں دشوار کریں نفرت شور شرابے سے خاموشی سے ...

مزید پڑھیے

ان کے در پہ آنکھ بچھائے بیٹھے ہیں

ان کے در پہ آنکھ بچھائے بیٹھے ہیں بے مطلب کی آس لگائے بیٹھے ہیں سارے عاشق سر کے بل اور دو زانو گہری سوچ میں غوطہ کھائے بیٹھے ہیں مت جا ان کے در دیوانے پنکھ پسار وہ یادوں کی شمع جلائے بیٹھے ہیں قربانی کا شوق اگر ہے بے شک جا وہ خنجر پر دھار لگائے بیٹھے ہیں ان کی غزلیں ان کی نظمیں ...

مزید پڑھیے

نہ ہوتی بھیڑ رندوں کی تو میخانے کدھر جاتے

نہ ہوتی بھیڑ رندوں کی تو میخانے کدھر جاتے یہ مے نوشی کہاں ہوتی یہ پیمانے کدھر جاتے اگر انسان بن جاتے کبھی شیخ و برہمن بھی تو یہ کعبہ کہاں ہوتا یہ بت خانے کدھر جاتے چراغ خانہ سے وہ بن گئے ہیں شمع محفل کی اگر ایسا نہ ہوتا پھر یہ پروانے کدھر جاتے ہماری بادہ نوشی پر ہوا حیران کیوں ...

مزید پڑھیے

ہندو نہ بن سکا میں مسلماں نہ بن سکا

ہندو نہ بن سکا میں مسلماں نہ بن سکا گیتا سنی نہ حافظ قرآں نہ بن سکا میں درد سر تو بن گیا ہر ایک کے لیے لیکن کسی کے درد کا درماں نہ بن سکا مسند نشیں نہ بن سکا یہ اور بات تھی صد حیف تیرے در کا بھی درباں نہ بن سکا خود میں سما کے خود کو ہی کرتا رہا سلام اپنے سوا کسی کا ثنا خواں نہ بن ...

مزید پڑھیے

قسمت کی بات کر نہ مقدر کی بات کر

قسمت کی بات کر نہ مقدر کی بات کر حسن عمل کی حسن تدبر کی بات کر کر اپنے گھر کی بات تو اوقات اپنی دیکھ دارا کی بات کر نہ سکندر کی بات کر کیا غم جو مال و زر سے نہیں فیضیاب تو شکوہ نہ کر کسی سے مقدر کی بات کر جو کچھ ملا ہے تجھ کو مقدر کی دین ہے عقل و ہنر نہ حسن تدبر کی بات کر شاعر ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3821 سے 4657