سودائے عشق خام تو ہر اک بشر میں ہے
سودائے عشق خام تو ہر اک بشر میں ہے مجنوں سا ضبط و جوش و جنوں کس کے سر میں ہے اک میں ہی مدح گو نہیں سرکار آپ کا چرچا تمہارے حسن کا ہر ایک گھر میں ہے اللہ رے نور مصحف رخسار کی دمک یہ تاب یہ چمک کہاں لعل و گہر میں ہے گھائل کیے ہزار تو لاکھوں جلا دئے کیا بات ان کی نگۂ جادو اثر میں ...