شاعری

سودائے عشق خام تو ہر اک بشر میں ہے

سودائے عشق خام تو ہر اک بشر میں ہے مجنوں سا ضبط و جوش و جنوں کس کے سر میں ہے اک میں ہی مدح گو نہیں سرکار آپ کا چرچا تمہارے حسن کا ہر ایک گھر میں ہے اللہ رے نور مصحف رخسار کی دمک یہ تاب یہ چمک کہاں لعل و گہر میں ہے گھائل کیے ہزار تو لاکھوں جلا دئے کیا بات ان کی نگۂ جادو اثر میں ...

مزید پڑھیے

تا بہ افلاک اگر اپنی رسائی ہوتی

تا بہ افلاک اگر اپنی رسائی ہوتی کچھ تعجب نہیں قبضے میں خدائی ہوتی ناصحا ہم کو طبیعت پہ جو قابو ہوتا دل سی دولت سر بازار گنوائی ہوتی موت نے مجھ کو فراموش کیا خوب کیا آپ نے آنکھ نہ اے کاش چرائی ہوتی میری مٹی کو ٹھکانے جو لگایا تھا تجھے سوئے بت خانہ یہ کم بخت اڑائی ہوتی سب کو تم ...

مزید پڑھیے

اے کاش کہ ٹوٹے ترا پندار کسی دن

اے کاش کہ ٹوٹے ترا پندار کسی دن کر لے تو مرے پیار کا اقرار کسی دن یہ جھانکنا چھپ چھپ کے ہمیشہ نہ رہے گا گر جائے گی یہ بیچ کی دیوار کسی دن حالات کے محبس سے نکالو انہیں ورنہ مر جائیں گے گھٹ کر یہاں خوددار کسی دن سرشار کبھی میں بھی بہت تھا اسے مل کر پچھتائے گا تو بھی اے مرے یار کسی ...

مزید پڑھیے

روٹھ جانے کی عادتیں نہ گئیں

روٹھ جانے کی عادتیں نہ گئیں دل جلانے کی عادتیں نہ گئیں زخم کھا کر بھی تجھ سے نام ترا گنگنانے کی عادتیں نہ گئیں پیار سے جو بھی مل گیا اس کو دکھ سنانے کی عادتیں نہ گئیں چاند کی شرم سے نقابوں میں منہ چھپانے کی عادتیں نہ گئیں دو دلوں کو اجاڑ کے ہنسنا نہ زمانے کی عادتیں نہ ...

مزید پڑھیے

غموں میں ڈھال گیا لوٹ کر نہیں آتا

غموں میں ڈھال گیا لوٹ کر نہیں آتا جو پچھلے سال گیا لوٹ کر نہیں آیا بچھڑ گیا ہے وہ خوشیاں سمیٹ کر اور غم مجھے سنبھال گیا لوٹ کر نہیں آیا عجب طلسم ہے اس کی حسین آنکھوں میں ادھر خیال گیا لوٹ کر نہیں آیا میں خود بھی سوچ میں گم ہوں کہ تیرے آنے سے کدھر ملال گیا لوٹ کر نہیں آیا عجیب ...

مزید پڑھیے

خوشبو کی طرح دل کے گلابوں میں رہے گا

خوشبو کی طرح دل کے گلابوں میں رہے گا وہ چاند ہمیشہ مرے خوابوں میں رہے گا بھیگی ہوئی آنکھوں سے گلے مل کے بچھڑنا وہ شخص سدا دل کے نصابوں میں رہے گا شاید میں ابھی اس کے جگر تک نہیں اترا شاید وہ ابھی اور نقابوں میں رہے گا سانسوں کی طرح میں تیری نس نس میں رہوں گا کھو کر تو مجھے خود ...

مزید پڑھیے

کیا لطف کہ وہ ظلم بھی جاری نہیں رکھتے

کیا لطف کہ وہ ظلم بھی جاری نہیں رکھتے کیا دوست ہیں کچھ لاج ہماری نہیں رکھتے ہم لپٹے ہوئے گھر سے بھی رہتے نہیں لیکن ہجرت کا کوئی خوف بھی طاری نہیں رکھتے اعجاز تخیل سے پہنچتے ہیں سر عرش ہم اہل ہنر کوئی سواری نہیں رکھتے رہنے پہ نہیں تم ہی جو تیار تو جاؤ ہم کوئی نشانی بھی تمہاری ...

مزید پڑھیے

چھپ چھپ کے ترے ہجر میں رونا تھا ہمارا

چھپ چھپ کے ترے ہجر میں رونا تھا ہمارا یہ حال کسی روز تو ہونا تھا ہمارا کر بیٹھے ہیں چور اس کو یہ بہتے ہوئے لمحے دل وقت کے ہاتھوں میں کھلونا تھا ہمارا ملاح بنا تھا تو ادا فرض بھی کرتا کیا تو نے سفینہ ہی ڈبونا تھا ہمارا پھر یہ کہ ہر اک سمت ہی اگنے لگے خنجر اک قطرۂ خوں دوستوں بونا ...

مزید پڑھیے

ایسا علاج حبس دل زار چاہئے

ایسا علاج حبس دل زار چاہئے اک در فصیل جاں میں ہوا دار چاہئے اک جھیل نغمہ ریز ہو اہل سفر کے ساتھ سر سبز دور تک صف اشجار چاہئے صحرا کف تموج دریا میں ہو اسیر شعلہ ہوا سے بر سر پیکار چاہئے یہ روح ایک طائر وحشی نژاد ہے ہر دم سفر کے واسطے تیار چاہئے اپنے فروغ حسن کی تشہیر کے ...

مزید پڑھیے

خواہش و خواب کے آگے بھی کہیں جانا ہے

خواہش و خواب کے آگے بھی کہیں جانا ہے عشق کے باب سے آگے بھی کہیں جانا ہے کیوں نہیں چھوڑتی آخر مجھے دنیا داری مال و اسباب سے آگے بھی کہیں جانا ہے دینے والے تو مجھے نیند نہ دے خواب تو دے مجھ کو مہتاب سے آگے بھی کہیں جانا ہے جانے کیوں روک رہی ہے مجھے اشکوں کی قطار چشم پر آب سے آگے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3822 سے 4657