یہ پھول جو مٹی کے ہیولوں سے اٹا ہے
یہ پھول جو مٹی کے ہیولوں سے اٹا ہے ماضی کا کوئی خواب ہے مانوس صدا ہے سوکھا ہوا پتا ہوں کہ بے ڈال پڑا ہوں کیا جانئے کس کے لیے یہ جوگ لیا ہے اے خار چمن زار منجم تو نہیں تو فردا کا ہر اک راز ترے لب سے سنا ہے پوچھو یہ ستاروں سے کہ توضیح کریں وہ کیوں لاش پہ یوں چاند کی ماتم سا بپا ...