شاعری

یہ پھول جو مٹی کے ہیولوں سے اٹا ہے

یہ پھول جو مٹی کے ہیولوں سے اٹا ہے ماضی کا کوئی خواب ہے مانوس صدا ہے سوکھا ہوا پتا ہوں کہ بے ڈال پڑا ہوں کیا جانئے کس کے لیے یہ جوگ لیا ہے اے خار چمن زار منجم تو نہیں تو فردا کا ہر اک راز ترے لب سے سنا ہے پوچھو یہ ستاروں سے کہ توضیح کریں وہ کیوں لاش پہ یوں چاند کی ماتم سا بپا ...

مزید پڑھیے

رنگ کہاں ہے سایا سا ہے

رنگ کہاں ہے سایا سا ہے نقش کہاں ہے دھوکا سا ہے صبح کی رنگت زردی مائل شام نہیں ہے دھڑکا سا ہے دل کا خون ہوا ہو شاید دور پرے جو کہرا سا ہے سیل عشق تھما کب ہوگا دریا ہے اور چڑھتا سا ہے لب اس کے جو کھلتے دیکھے ایک جہاں کچھ ہنستا سا ہے اصل میں نقش کیف ہستی فانی سا ہے مٹتا سا ہے حسن ...

مزید پڑھیے

قریۂ انتظار میں عمر گنوا کے آئے ہیں

قریۂ انتظار میں عمر گنوا کے آئے ہیں خاک بہ سر اس دشت میں خاک اڑا کے آئے ہیں یاد ہے تیغ بے رخی یاد ہے ناوک ستم بزم سے تیری اہل دل رنج اٹھا کے آئے ہیں جرم تھی سیر گلستاں جرم تھا جلوہ ہائے گل جبر کے باوجود ہم گشت لگا کے آئے ہیں پہلے بھی سر بہت کٹے پہلے بھی خوں بہت بہا اب کے مگر عذاب ...

مزید پڑھیے

سکون دل گیا نظروں سے سب قطارے گئے

سکون دل گیا نظروں سے سب قطارے گئے چمن میں کھلتے ہوئے جب سے پھول مارے گئے ہوائے موت ذرا دیر کیا ادھر آئی کہ میرے ہاتھ سے اڑ کر مرے غبارے گئے یہ کیسی کربلا برپا ہوئی پشاور میں لہو میں ڈوبے ہوئے میرے بچے مارے گئے انہیں ہی مرتبہ ملتا ہے جا کے جنت میں حصول علم کی خاطر جو جان وارے ...

مزید پڑھیے

ایسی بھی کہاں بے سر و سامانی ہوئی ہے

ایسی بھی کہاں بے سر و سامانی ہوئی ہے جو سب کو مجھے دیکھ کے حیرانی ہوئی ہے دل میں تو تری یاد تھی اک بوند لہو کی آنکھوں میں جو آئی تو یہی پانی ہوئی ہے قلزم کا ہے اعزاز کہ تہہ داری کی ہر موج اس زلف گرہ گیر کی دیوانی ہوئی ہے کیا ڈھونڈنے نکلی ہے کسی قیس کو پاگل اس درجہ جو یہ باد ...

مزید پڑھیے

اب سوچئے تو دام تمنا میں آ گئے

اب سوچئے تو دام تمنا میں آ گئے دیوار و در کو چھوڑ کے صحرا میں آ گئے تصویر تھے جو اولیں سرشاریوں میں لوگ وہ زخم بن کے چشم تمنا میں آ گئے ان سے بھی پوچھئے کبھی اپنی زمیں کا کرب جو ساحلوں کو چھوڑ کے دریا میں آ گئے وحشت نے یوں تو خوب دیا ہر قدم پہ ساتھ لیکن ترے فریب دل آرا میں آ ...

مزید پڑھیے

عشق میں ہو کے مبتلا دل نے کمال کر دیا

عشق میں ہو کے مبتلا دل نے کمال کر دیا یوں ہی سی ایک شکل کو زہرہ جمال کر دیا ہم کو تمہاری بزم سے اٹھنے کا کچھ قلق نہیں جیسا خیال ہو سکا ویسا خیال کر دیا سیل روان عمر کے آگے ٹھہر سکا نہ کچھ وقت نے مہر حسن کو رو بہ زوال کر دیا ایک سم عذاب سا پھیل گیا وجود میں روز و شب فراق نے جینا ...

مزید پڑھیے

فتنہ اٹھا تو رزم گہہ خاک سے اٹھا

فتنہ اٹھا تو رزم گہہ خاک سے اٹھا سورج کسی کے پیرہن چاک سے اٹھا یہ دل اٹھا رہا ہے بڑے حوصلے کے ساتھ وہ بار جو زمیں سے نہ افلاک سے اٹھا سب معجزوں کے باب میں یہ معجزہ بھی ہو جو لوگ مر گئے ہیں انہیں خاک سے اٹھا سورج کی ضو چراغ شکستہ کی لو سے ہو قلزم کی موج دیدۂ نمناک سے اٹھا پوچھا جو ...

مزید پڑھیے

میں تو سویا بھی نہ تھا کیوں یہ در خواب گرا

میں تو سویا بھی نہ تھا کیوں یہ در خواب گرا میری آغوش میں بجھتا ہوا مہتاب گرا پھر سمندر کی طرف لوٹ چلی موج بہ موج پھر کوئی تشنہ دہن آ کے سر آب گرا عکس مسمار نہ کر دیدۂ حیراں کے سرشک میرے خوابوں کے در و بام نہ سیلاب گرا ڈھونڈ سیپی کی طرح دل کو نہ ساحل کے قریب یہ صدف دور بہت دور تہہ ...

مزید پڑھیے

اسی لیے تو ہار کا ہوا نہیں ملال تک

اسی لیے تو ہار کا ہوا نہیں ملال تک وہ میرے ساتھ ساتھ تھا عروج سے زوال تک نہیں ہے سہل اس قدر کہ جی سکے ہر ایک شخص بلائے ہجر کی رتوں سے موسم وصال تک ہماری کشت آرزو یہ دھوپ کیا جلائے گی تمہارا انتظار ہم کریں گے برشگال تک عمیق زخم اس قدر بہ دست و روز و شب ملے کہ مندمل نہ کر سکی دوائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3820 سے 4657