سینۂ شاعر غم سے بھرا ہے آنکھ مگر نمناک نہیں ہے
سینۂ شاعر غم سے بھرا ہے آنکھ مگر نمناک نہیں ہے روز ازل سے ہے دیوانہ دامن لیکن چاک نہیں ہے ہجر کے غم میں رونے والے تیرا الم دنیا کی نظر میں کل بھی عبرت ناک نہیں تھا آج بھی عبرت ناک نہیں ہے شکوہ بہ لب وہ رند ہیں ساقی آج بھی تیرے میخانے میں تشنہ دہن بیٹھے ہیں لیکن عرض طلب بے باک نہیں ...