شاعری

داستان زندگی لکھتے مگر رہنے دیا

داستان زندگی لکھتے مگر رہنے دیا اس کے ہر کردار کو بس معتبر رہنے دیا کوئی منزل کوئی مفروضہ نہ تھا پیش نظر زیر پا اک رہگزر تھی رہ گزر رہنے دیا دل کے ہر موسم نے بخشی دولت احساس و درد صرف اس سرمائے کو زاد سفر رہنے دیا ساتھ اک خوش باش لہجہ محفلوں میں لے کے آئے دل کی ویرانی کو تنہا ...

مزید پڑھیے

کسی خیال کی حدت سے جلنا چاہتی ہوں

کسی خیال کی حدت سے جلنا چاہتی ہوں میں لفظ لفظ غزل میں پگھلنا چاہتی ہوں عجیب موسم دل ہے عجیب مجبوری نہ خود سے روٹھوں نہ تم سے بچھڑنا چاہتی ہوں پہن کے خواب قبا ڈھونڈ لوں گی چاند نگر سہج سہج کسی بادل پہ چلنا چاہتی ہوں حقیقتیں تو مرے روز و شب کی ساتھی ہیں میں روز و شب کی حقیقت بدلنا ...

مزید پڑھیے

دل کو ہر سرمئی رت میں یہی سمجھاتے ہیں

دل کو ہر سرمئی رت میں یہی سمجھاتے ہیں ایسے موسم کئی آتے ہیں گزر جاتے ہیں حد سے بڑھ جاتی ہے جب تلخیٔ امروز تو پھر ہم کسی اور زمانے میں نکل جاتے ہیں رات بھر نیند میں چلتے ہیں بھٹکتے ہیں خیال صبح ہوتی ہے تو تھک ہار کے گھر آتے ہیں کیسے گھبرائے سے پھرتے ہیں مرے خال غزال زندگانی کی ...

مزید پڑھیے

ہونے کو تو دنیا میں ہیں کتنے ہی حسیں اور

ہونے کو تو دنیا میں ہیں کتنے ہی حسیں اور لیکن نہیں تم جیسا کوئی زہرہ جبیں اور تم پاس رہو گے تو حفاظت سے رہو گے اس دور میں کوئی بھی نہیں مجھ سا امیں اور دوزخ کا مجھے خوف ہے نے خواہش جنت اب کچھ بھی محبت کے سوا دل میں نہیں اور کیسا یہ جنوں ہے مرا کوئی تو بتائے جانا تھا مجھے اور کہیں ...

مزید پڑھیے

خدا نے حسن دیا تجھ کو اور جمال دیا

خدا نے حسن دیا تجھ کو اور جمال دیا مجھے جو عشق دیا وہ بھی بے مثال دیا سوال وہ کہ نہ تھا جس کا کوئی حل ممکن مجھے بھی کیا کروں اس نے وہی سوال دیا ہر ایک حال میں کرتا ہوں رب کا شکر ادا کبھی خوشی مجھے بخشی کبھی ملال دیا قرآن پاک سے کچھ ایسا مجھ کو فیض ملا کے جس نے جہل مرے قلب سے نکال ...

مزید پڑھیے

وہ نمایاں ہے یوں ہزاروں میں

وہ نمایاں ہے یوں ہزاروں میں جس طرح چاند ہو ستاروں میں جلوۂ یار کس طرح دیکھوں میری نظریں ہیں گم نظاروں میں اے بہاروں کے لوٹنے والو تم بھی کھو جاؤ گے بہاروں میں دوستی رہ گئی ہے مطلب کی اب کہاں ہے خلوص یاروں میں کوئی سمجھا کوئی نہیں سمجھا بات وہ کہہ گئے اشاروں میں تیری تقریر سن ...

مزید پڑھیے

کیا دے گئی فریب کسی کی نظر مجھے

کیا دے گئی فریب کسی کی نظر مجھے دنیا کا ہوش ہے نہ کچھ اپنی خبر مجھے جینے کی آرزو ہے نہ مرنے کی آرزو ایسا دیا ہے عشق نے اک درد سر مجھے موسیٰ گئے تھے طور پہ جلوے کو دیکھنے آتا ہے چار سو ترا جلوہ نظر مجھے جب تک شعور و عقل مرے ساتھ میں رہے لگتی تھی راہ عشق بہت پر خطر مجھے وہ ہم نشیں ...

مزید پڑھیے

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں دست دعا میں رکھا ہوا آئنہ ہوں میں اب جا کے ہو سکے گی محبت وثوق سے خود سے بچھڑتے وقت کسی سے ملا ہوں میں آباد ہے خزانے کی افواہ سے وجود متروک جنگلوں کا کوئی راستہ ہوں میں دستار کاغذی ہے فضیلت ہے نام کی چھوٹوں کی مہربانی سے گھر میں بڑا ہوں ...

مزید پڑھیے

کوئی سلسلہ نہیں جاوداں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

کوئی سلسلہ نہیں جاوداں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی میں تو ہر طرح سے ہوں رائیگاں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی مرے ہم نفس تو چراغ تھا تجھے کیا خبر مرے حال کی کہ جیا میں کیسے دھواں دھواں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی نہ ترا وصال وصال تھا نہ تری جدائی جدائی ہے وہی حالت دل بد گماں ترے ساتھ بھی ...

مزید پڑھیے

رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئے

رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئے روشنی میں آئے تو ہم لوگ اندھے ہو گئے آنگنوں میں دفن ہو کر رہ گئی ہیں خواہشیں ہاتھ پیلے ہوتے ہوتے رنگ پیلے ہو گئے بھیڑ میں گم ہو گئے ہم اپنی انگلی چھوڑ کر منفرد ہونے کی دھن میں اوروں جیسے ہو گئے زندہ رہنے کے لئے کچھ بے حسی درکار تھی سوچتے رہنے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3805 سے 4657