داستان زندگی لکھتے مگر رہنے دیا
داستان زندگی لکھتے مگر رہنے دیا اس کے ہر کردار کو بس معتبر رہنے دیا کوئی منزل کوئی مفروضہ نہ تھا پیش نظر زیر پا اک رہگزر تھی رہ گزر رہنے دیا دل کے ہر موسم نے بخشی دولت احساس و درد صرف اس سرمائے کو زاد سفر رہنے دیا ساتھ اک خوش باش لہجہ محفلوں میں لے کے آئے دل کی ویرانی کو تنہا ...