شاعری

یہاں سے اب کہیں لے چل خیال یار مجھے

یہاں سے اب کہیں لے چل خیال یار مجھے چمن میں راس نہ آئے گی یہ بہار مجھے تری لطیف نگاہوں کی خاص جنبش نے بنا دیا تری فطرت کا رازدار مجھے مری حیات کا انجام اور کچھ ہوتا جو آپ کہتے کبھی اپنا جاں نثار مجھے بدل دیا ہے نگاہوں سے رخ زمانے کا کبھی رہا ہے زمانے پہ اختیار مجھے میں جب چلا ...

مزید پڑھیے

خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوں

خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوں بہر عالم تمہارا ہی کرم محسوس کرتا ہوں الم اپنا تو دنیا میں سبھی محسوس کرتے ہیں مگر میں ہوں کہ دنیا کا الم محسوس کرتا ہوں بس اتنی بات پر مومن مجھے کافر سمجھتے ہیں در جاناں کو محراب حرم محسوس کرتا ہوں ابھی ساقی کا فیض عام شاید نامکمل ...

مزید پڑھیے

آہ و نالہ درد و غم شور فغاں ہے آج بھی

آہ و نالہ درد و غم شور فغاں ہے آج بھی یعنی ہر بلبل اسیر باغباں ہے آج بھی ہائے تم اس کو سمجھتے ہو گلستاں کا حریف بجلیوں کی زد میں جس کا آشیاں ہے آج بھی نقش آزادی جبینوں سے نمایاں ہے مگر دامن دل پر غلامی کا نشاں ہے آج بھی منزل مقصود پر پہنچے ہیں سب کے قافلے صرف میری سعی پیہم ...

مزید پڑھیے

جہاں میں ہم جسے بھی پیار کے قابل سمجھتے ہیں

جہاں میں ہم جسے بھی پیار کے قابل سمجھتے ہیں حقیقت میں اسی کو زیست کا حاصل سمجھتے ہیں ملا کرتا ہے دست غیب سے مخصوص بندوں کو کسی کے درد کو ہم کائنات دل سمجھتے ہیں جنہیں شوق طلب نے قوت بازو عطا کی ہے تلاطم خیز طغیانی کو وہ ساحل سمجھتے ہیں ستم ایسے کیے تمثیل جن کی مل نہیں سکتی مگر ...

مزید پڑھیے

مرے فرزانہ بننے کا بہت امکان باقی ہے

مرے فرزانہ بننے کا بہت امکان باقی ہے ابھی جیب و گریباں کی مجھے پہچان باقی ہے مرے سینے میں تیرے تیر کا پیکان باقی ہے بہ الفاظ دگر روداد کا عنوان باقی ہے بقائے جاوداں بخشی ہے جس کو تیری نظروں نے مرے دل میں ابھی ایسا بھی اک ارمان باقی ہے سرشت حسن کا تبدیل ہونا غیر ممکن ہے سرشت عشق ...

مزید پڑھیے

جب کبھی شغل سے خالی یہ بشر ہوتا ہے

جب کبھی شغل سے خالی یہ بشر ہوتا ہے تو دماغ اس کا شیاطین کا گھر ہوتا ہے قلب میں جس کے ہو ایمان و عمل کی طاقت وہ کسی سے بھی نہیں ڈرتا نڈر ہوتا ہے بے عمل کی تو دعائیں بھی پلٹ آتی ہیں با عمل کی ہی دعاؤں میں اثر ہوتا ہے ہر زمانے میں حسد کرتے ہیں اس سے کچھ لوگ جو بھی آراستۂ علم و ہنر ...

مزید پڑھیے

ہر جگہ آپ نے ممتاز بنایا ہے مجھے

ہر جگہ آپ نے ممتاز بنایا ہے مجھے واقعی قابل اعزاز بنایا ہے مجھے جس پر مر مٹنے کی ہر ایک قسم کھاتا ہے وہی شوخی وہی انداز بنایا ہے مجھے واقعی واقف ادراک دو عالم تم ہو تم نے ہی واقف ہر راز بنایا ہے مجھے جس فسانے کا ابھی تک کوئی انجام نہیں اس فسانے کا ہی آغاز بنایا ہے مجھے کبھی ...

مزید پڑھیے

اب وہاں چل کر رہیں اے دل جہاں کوئی نہ ہو

اب وہاں چل کر رہیں اے دل جہاں کوئی نہ ہو ہم ہوں اور وہ ہوں ہمارے درمیاں کوئی نہ ہو عشق ہے وہ عشق رسوائی ہو جس کے ساتھ ساتھ عشق وہ کیا عشق جس کی داستاں کوئی نہ ہو میں بھی دل والوں کی بربادی سے واقف ہوں مگر میری صورت یوسف بے کارواں کوئی نہ ہو مہرباں ہو جائے اک عالم ہمارے حال پر آپ ...

مزید پڑھیے

اتنے نزدیک سے آئینے کو دیکھا نہ کرو

اتنے نزدیک سے آئینے کو دیکھا نہ کرو رخ زیبا کی لطافت کو بڑھایا نہ کرو درد و آزار کا تم میرے مداوا نہ کرو رہنے دو اپنی مسیحائی کا دعوا نہ کرو حسن کے سامنے اظہار تمنا نہ کرو عشق اک راز ہے اس راز کو افشا نہ کرو اپنی محفل میں مجھے غور سے دیکھا نہ کرو میں تماشا ہوں مگر تم تو تماشا نہ ...

مزید پڑھیے

عشق میں یہ ہوئی حالت ترے دیوانے کی

عشق میں یہ ہوئی حالت ترے دیوانے کی اب نہ جینے کی تمنا ہے نہ مر جانے کی رقص مینا کا کبھی شوخیاں پیمانے کی یاد آتی ہیں فضائیں ترے میخانے کی کچھ اس انداز سے ترتیب دیا ہے میں نے تم سے تشریح نہ ہوگی مرے افسانے کی میری قسمت ہی میں لکھی تھی تباہی اے دوست ہے شکایت مجھے اپنے کی نہ بیگانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3803 سے 4657