جگنو کے ساتھ ساتھ ہی مہتاب بھی تو ہیں
جگنو کے ساتھ ساتھ ہی مہتاب بھی تو ہیں ہم دریا برد گوہر نایاب بھی تو ہیں یوں ہی نہیں ہیں لعل و گہر اپنے ہاتھ میں دریا کے ہم وجود میں غرقاب بھی تو ہیں تم کو تو صرف موجوں پہ حاصل ہے برتری دریا کوئے یار میں گرداب بھی تو ہیں جائز ہیں بے قراریاں لیکن جناب دل اس کی نوازشوں کے کچھ آداب ...