شاعری

صداقت کی یہاں گرتی ہوئی دیوار دیکھی ہے

صداقت کی یہاں گرتی ہوئی دیوار دیکھی ہے ستم کی جیت دیکھی ہے کرم کی ہار دیکھی ہے غریبوں کی ہی کشتی کو ہمیشہ ڈوبتے دیکھا امیر شہر کی کشتی ہمیشہ پار دیکھی ہے امیر شہر ان آنکھوں میں کتنا محترم ہے تو جن آنکھوں نے تری ذلت سر بازار دیکھی ہے ان آنکھوں نے سر نیزہ کوئی بھی سر نہیں ...

مزید پڑھیے

غموں میں ہنس کے بتانا ہے کیا کیا جائے

غموں میں ہنس کے بتانا ہے کیا کیا جائے یہی تو سب کا فسانہ ہے کیا کیا جائے اگے ہیں جن کی ہتھیلی میں سیکڑوں کانٹے انہیں سے ہاتھ ملانا ہے کیا کیا جائے وہ جن کا نام بھی لینے سے ہونٹ جلتے ہیں انہیں ادب سے بلانا ہے کیا کیا جائے ہماری پیاس کو کچھ بوند اور سمندر تک سلگتی ریت سے جانا ہے ...

مزید پڑھیے

چمن چمن نہ رہے گا جو تیری بو نہ رہے

چمن چمن نہ رہے گا جو تیری بو نہ رہے میں اس خیال سے ڈرتا ہوں جس میں تو نہ رہے جو تیرا عکس بھی مجھ کو نصیب ہو جائے مری تلاش مکمل ہو جستجو نہ رہے یہ آرزو ہے کہ تجھ سا تمام دنیا میں سوائے میرے کوئی اور ہو بہ ہو نہ رہے کھلیں گے دل کے دریچے سہانے موسم میں اس انتظار میں نا کام آرزو نہ ...

مزید پڑھیے

دور حاضر کا یہ کیسا گلستاں ہے بولئے

دور حاضر کا یہ کیسا گلستاں ہے بولئے پھول تو ہر سمت ہیں خوشبو کہاں ہے بولئے آپ بھی پڑھتے تو ہوں گے آج کل اخبار میں جرم کس کا اور کس کی داستاں ہے بولئے راستوں سے منزلوں تک میرے پاؤں کے سوا پتھروں پر کیا کوئی تازہ نشاں ہے بولئے سلب ہو کر رہ گئیں کیوں احتجاجی قوتیں کون ہم لوگوں میں ...

مزید پڑھیے

ہوش و حواس و عقل سے بیگانہ نہیں ہوں

ہوش و حواس و عقل سے بیگانہ نہیں ہوں بے شک جنوں میں غرق ہوں دیوانہ نہیں ہوں وحشت سے مری خوف نہ کھا آ قریب آ مجھ پر ترا خمار ہے مستانہ نہیں ہوں مجھ میں نہ تم تلاش کرو میکشوں سکوں میں رند بلا نوش ہوں مے خانہ نہیں ہوں ناداں سمجھ کے مجھ پہ عنایت ہے اس قدر اچھا ہے نگہ یار میں فرزانہ ...

مزید پڑھیے

کیسے کہوں کہ آخری اپنی اڑان ہے

کیسے کہوں کہ آخری اپنی اڑان ہے اس آسماں کے بعد بھی اک آسمان ہے زخموں سے چور چور بدن لب پہ جان ہے ایسے میں حوصلوں کا مرے امتحان ہے اللہ رے یہ شہر نگاراں یہ میرا دل کچا گھڑا ہے اور ندی میں اپھان ہے محلوں میں ہو اداس تو آ جاؤ لوٹ کر میرا وہیں پہ آج بھی کچا مکان ہے تو نے دیا جو زخم ...

مزید پڑھیے

عشق میں ہر تمنائے قلب حزیں سرخ آنسو بہائے تو میں کیا کروں

عشق میں ہر تمنائے قلب حزیں سرخ آنسو بہائے تو میں کیا کروں ناامیدی ہمہ وقت امید کے حاشیوں کو مٹائے تو میں کیا کروں اس کے رخسار صبح درخشاں سہی اس کی زلفوں میں شام غریباں سہی دھوپ اور چھاؤں کی طرح وہ خود نگر سامنے میرے آئے تو میں کیا کروں وہ الگ میں الگ وہ کہیں ہیں کہیں واقعی یہ تو ...

مزید پڑھیے

نگاہیں نیچی رکھتے ہیں بلندی کے نشاں والے

نگاہیں نیچی رکھتے ہیں بلندی کے نشاں والے اٹھا کر سر نہیں چلتے زمیں پر آسماں والے تقید حبس کا آزادیاں دل کی نہیں کھوتا قفس کو بھی بنا لیتے ہیں گلشن آشیاں والے نہیں ہے رہبریٔ منزل عرفان دل آساں بھٹک جاتے ہیں اکثر راستے سے کارواں والے زمیں کی انکساری بھی بڑا اعجاز رکھتی ہے جبیں ...

مزید پڑھیے

مسلسل تیرنے والا بھی اکثر ہار جاتا ہے

مسلسل تیرنے والا بھی اکثر ہار جاتا ہے سمندر سے جو بچ نکلے تو دریا مار جاتا ہے شرافت کا مری چرچا سر بازار کیا پہنچا جسے دیکھو وہی آ کر مجھے للکار جاتا ہے سر مقتل میں جاں بخشی کی اس سے التجا کر کے اگر سر کو بچا لوں تو مرا کردار جاتا ہے ہمیں چھو کر جو بن جاتا ہے مٹی سے کھرا ...

مزید پڑھیے

دن کے ہارے ہوئے جب شام کو گھر جاتے ہیں

دن کے ہارے ہوئے جب شام کو گھر جاتے ہیں زندگی ہم تری آغوش میں مر جاتے ہیں کوئی تو بات ہے جو اب بھی تری جانب ہم دل اجازت نہیں دیتا ہے مگر جاتے ہیں آج بھی کچے گھڑوں پر ہی بھروسہ کر کے عشق والے چڑھے دریا میں اتر جاتے ہیں ہم غریبوں کے طرف دار بہت ہیں لیکن بات انصاف کی آئے تو مکر جاتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 381 سے 4657