شاعری

بے موسم کی باتیں کرنے والے ہیں

بے موسم کی باتیں کرنے والے ہیں رنج و غم کی باتیں کرنے والے ہیں زخم ہٹو تم دے دو مجھ کو رستہ اب ہم مرہم کی باتیں کرنے والے ہیں زمزم کی باتیں بھی اس میں شامل تھیں دو عالم کی باتیں کرنے والے ہیں کوئی ادناؤں کی باتیں کرتا نہیں سب اعظم کی باتیں کرنے والے ہیں بات ہوئی اب ختم سمندر ...

مزید پڑھیے

کبھی جو ویرانیوں میں دیکھا گھنا سا اک بھی شجر نہیں ہے

کبھی جو ویرانیوں میں دیکھا گھنا سا اک بھی شجر نہیں ہے شجر بھی ایسے ہیں دیکھ رکھے کہ جس میں کوئی ثمر نہیں ہے سبھی نظارے مری نظر میں غبار بن کر سمٹ گئے ہیں تجھے نہ آیا نظر تو شاید نظر میں تیری اثر نہیں ہے عجیب ہوگی ہوا کی صورت غضب کی ہوگی ہوا کی رنگت تجھے بھی اس کا پتہ نہیں ہے مجھے ...

مزید پڑھیے

عجب ہے یہ قصہ کہانی میں دم ہے

عجب ہے یہ قصہ کہانی میں دم ہے یہ سب نے کہا تھا کہانی میں دم ہے پلٹ ہی رہا تھا کہ پیچھے سے میرے کسی نے پکارا کہانی میں دم ہے مری ڈایری کو جلانے سے پہلے وہ کہہ کر گیا تھا کہانی میں دم ہے صفحے ہی پلٹتا رہا رات بھر میں یہ رہ رہ کے سمجھا کہانی میں دم ہے کہاں چل دئے چھوڑ کر یہ ...

مزید پڑھیے

شکن کے ساتھ جیتے ہیں تھکن کی دسترس میں ہیں

شکن کے ساتھ جیتے ہیں تھکن کی دسترس میں ہیں حقیقت میں سبھی اپنے بدن کی دسترس میں ہیں جمال نکہت شام و سحر بھی انجمن میں ہے کلی بھنورے گل و بلبل چمن کی دسترس میں ہیں مجھے پرواز کر کے آسماں میں ڈوبنا تھا اور مجھے یہ یاد تھا ہم سب بدن کی دسترس میں ہیں اسیران غم دنیا فنا کی جستجو میں ...

مزید پڑھیے

آنسو بن کر بہنے لائق تاریکی

آنسو بن کر بہنے لائق تاریکی یعنی ٹپکی پینے لائق تاریکی میری آنکھوں سے ٹپکے ہے رات و دن سب کے ہوش اڑانے لائق تاریکی گلشن کی خوشبو میں کیسے پاؤ گے اندھیروں میں رہنے لائق تاریکی آتے ہیں آسیب مرے دل کے اندر ہوگی شاید ان کے لائق تاریکی ایک سمندر کی تہہ میں رہتی ہے جو جل پریوں کے ...

مزید پڑھیے

علم و فن کے راز سر بستہ کو وا کرتا ہوا

علم و فن کے راز سر بستہ کو وا کرتا ہوا وہ مجھے جب بھی ملا ہے ترجمہ کرتا ہوا صرف احساس ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں اور ایسا بھی مگر وہ بارہا کرتا ہوا جانے کن حیرانیوں میں ہے کہ اک مدت سے وہ آئینہ در آئینہ در آئینہ کرتا ہوا کیا قیامت خیز ہے اس کا سکوت ناز بھی ایک عالم کو مگر وہ لب کشا ...

مزید پڑھیے

اسی تمنا میں دل کا چراغ جلتا ہے

اسی تمنا میں دل کا چراغ جلتا ہے کہ اس کے نور سے احساس غم سنبھلتا ہے ہجوم رنج و محن میں قضا کو بہلایا کہ وقت سانس کے نقش قدم پہ چلتا ہے کسی کی گردش ایام پر نظر نہ رہی کہ شام ہوتے ہی سورج بھی روز ڈھلتا ہے یہ درد عظمت امکاں کی حد سے باہر ہے یہ زخم وہ ہے جو آغوش غم میں پلتا ہے مغالطوں ...

مزید پڑھیے

ذرات کے جوہر میں احسان خدا تم ہو

ذرات کے جوہر میں احسان خدا تم ہو یہ میری انا کیا ہے عرفان خدا تم ہو ہر قطرۂ شبنم میں ہر رنگ گل تر میں یا جان خدا تم ہو یا شان خدا تم ہو ظاہر میں مذاہب ہیں باطن میں تمہی تم ہو انجیل ہو گیتا ہو قرآن خدا تم ہو تا حد افق ہر سو جلوے ہی تمہارے ہیں وسعت میں خلاؤں کی اعلان خدا تم ہو دنیا ...

مزید پڑھیے

غم بھلانے کا ہمیں کوئی بہانا تو ملے

غم بھلانے کا ہمیں کوئی بہانا تو ملے شب فرقت کا ہر اک لمحہ سہانا تو ملے مندر و مسجد و معبد ہو کہ مے خانہ ہو سر جھکانے کے لئے کوئی ٹھکانہ تو ملے بزم خاموش کی آہٹ ہو کہ پت جھڑ کا سکوں عیش و غم ہم کو یہاں شانہ بہ شانہ تو ملے یہ تسلی سہی یاد آئی تو وہ بھی آئے میرے احساس غم دل کا نشانا ...

مزید پڑھیے

کچھ غزلوں پہ اب سے حیرت ہوتی ہے

کچھ غزلوں پہ اب سے حیرت ہوتی ہے اس سے اس سے سب سے حیرت ہوتی ہے ایماں کی کمزوری ہے کچھ اور نہیں جس کو بھی مذہب سے حیرت ہوتی ہے ملنے آنا تم نے جب سے چھوڑ دیا مجھ کو تجھ پہ تب سے حیرت ہوتی ہے اک دوجے کا جینا مشکل کرتے ہیں اس دنیا میں سب سے حیرت ہوتی ہے پچھلی شب اک خواب میں سورج کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 366 سے 4657