شاعری

فکر بیش و کم نہیں ان کی رضا کے سامنے

فکر بیش و کم نہیں ان کی رضا کے سامنے یہ مجھے تسلیم ہے ارض و سما کے سامنے جو طلب نا آشنا ہو ماسوا کے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہے دنیا اس گدا کے سامنے یہ کمال جذب دل میری نظر سے دور تھا آپ خود آ جائیں گے پردہ اٹھا کے سامنے سوچنا پڑتا ہے کیوں بے بس ہوں کیوں مجبور ہوں میں سر آغاز و فکر ...

مزید پڑھیے

اہتمام رنگ و بو سے گلستاں پیدا کریں

اہتمام رنگ و بو سے گلستاں پیدا کریں آؤ مل جل کر بہار بے خزاں پیدا کریں کیوں سکوت بے محل سے داستاں پیدا کریں دیدہ و دانستہ اپنے راز داں پیدا کریں راس آ سکتا ہے میر کارواں بننے کا خواب شرط یہ ہے پہلے اپنا کارواں پیدا کریں کار آرائی تو خود ہے حاصل تکمیل کار دل میں کیا اندیشۂ سود و ...

مزید پڑھیے

خواب کا عکس کہاں خواب کی تعبیر میں ہے

خواب کا عکس کہاں خواب کی تعبیر میں ہے مجھ کو معلوم ہے جو کچھ مری تقدیر میں ہے میری روداد محبت کو نہ سننے والے تجھ میں وہ بات کہاں جو تری تصویر میں ہے پیکر خاک بھی ہوں باعث کونین بھی ہوں کتنا ایجاز نمایاں مری تفسیر میں ہے پھول بن کر بھی یہ احساس شگوفے کو نہیں میری تخریب کا پہلو ...

مزید پڑھیے

عشق کے ہاتھوں میں پرچم کے سوا کچھ بھی نہیں

عشق کے ہاتھوں میں پرچم کے سوا کچھ بھی نہیں اس کا عالم تیرے عالم کے سوا کچھ بھی نہیں بے یقینی سوئے ظن ایمان ناقص کی دلیل فکر راحت خطرۂ غم کے سوا کچھ بھی نہیں ہم سے پوچھو ہم بتائیں غایت کون و مکاں کار گاہ ابن آدم کے سوا کچھ بھی نہیں آتش نفرت سے اب دنیا ہے ایسے موڑ پر دیدہ ور گو یہ ...

مزید پڑھیے

مجھ کو مجبور سرکشی کہیے

مجھ کو مجبور سرکشی کہیے آپ اندھیرے کو روشنی کہیے ان سے بچھڑا تو اس عذاب میں ہوں موت کہئے کہ زندگی کہیے سر ساحل بھی لوگ پیاسے ہیں اس کو آشوب تشنگی کہیے کیوں تجاہل کو عارفانہ کہوں میرے چہرے کو اجنبی کہیے چار دن کی ہے چاندنی لیکن چاندنی ہے تو چاندنی کہیے موت بھی زندگی کا اک رخ ...

مزید پڑھیے

میں سب کچھ ان دیکھا کرنے لگتا ہوں

میں سب کچھ ان دیکھا کرنے لگتا ہوں جب بھی اس کا پیچھا کرنے لگتا ہوں خود کے شانے پہ ہی رکھ دیتا ہوں سر ایسے دل کو ہلکا کرنے لگتا ہوں خاموشی جب ظاہر ہونے لگتی ہے تب میں شور شرابہ کرنے لگتا ہوں نقش دست ملا ہے اور نہ نقش پا کن راہوں کا پیچھا کرنے لگتا ہوں وجہہ ہجر یار یہ دنیا ہو ...

مزید پڑھیے

ہوا کا تلخ لہجہ ہے چراغوں کی پریشانی

ہوا کا تلخ لہجہ ہے چراغوں کی پریشانی چمکتے چاند سورج ہیں ستاروں کی پریشانی کناروں میں بھی شاید ڈوب جانے کی طلب ہوگی پتہ کیسے کریں گے ہم کناروں کی پریشانی مرے پیارے ہماری زندگی میں اور بہت غم ہیں محبت ہجر یہ تو ہیں ہزاروں کی پریشانی یہ صحرا بھی تو شاید دھوپ ہی سے تلملاتا ...

مزید پڑھیے

غم ضروری تھا بہت آنسو کے بننے کے لیے

غم ضروری تھا بہت آنسو کے بننے کے لیے جبر بھی تو چاہیئے آنسو نکلنے کے لیے اے چراغو یوں بھی ہوگا یہ ہوا تم سے ڈرے دائمی جلنا پڑے گا شمس بننے کے لیے جنبش چشم و لب و رخسار کی رعنائیاں بس یہی کافی ہے ان کو یاد رکھنے کے لیے میں بنا مٹی سے ہوں اور یہ تو ہے رنگ بشر میں سمٹتا ہی گیا پھر سے ...

مزید پڑھیے

زندگی کہے کوئی تشنگی سمجھ لینا

زندگی کہے کوئی تشنگی سمجھ لینا میری بہکی باتوں کو عاشقی سمجھ لینا زندگی کے دامن میں موت رہتی ہے یارو موت کھلتی جائے گی زندگی سمجھ لینا ایسی گہری آنکھیں ہیں ڈوب جاؤ گے اندر چھوڑو اس سمندر کو پھر کبھی سمجھ لینا صحرا کی حرارت میں دھوپ جگمگاتی ہے سایا جو دکھے کوئی اجنبی سمجھ ...

مزید پڑھیے

چاند تاروں کا ترے روبرو سجدہ کرنا

چاند تاروں کا ترے روبرو سجدہ کرنا خواب دیکھا ہے تو کیا خواب کا چرچا کرنا حسن برہم سے مرا عرض تمنا کرنا جیسے طوفان میں ساحل سے کنارا کرنا راس آئے گا نہ یہ کوشش بے جا کرنا بد گمانی کو بڑھا کر مجھے تنہا کرنا میری جانب سے ہے خاموش دریچے کا سوال کب سے سیکھا تری آواز نے پروا کرنا ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 365 سے 4657