فکر بیش و کم نہیں ان کی رضا کے سامنے
فکر بیش و کم نہیں ان کی رضا کے سامنے یہ مجھے تسلیم ہے ارض و سما کے سامنے جو طلب نا آشنا ہو ماسوا کے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہے دنیا اس گدا کے سامنے یہ کمال جذب دل میری نظر سے دور تھا آپ خود آ جائیں گے پردہ اٹھا کے سامنے سوچنا پڑتا ہے کیوں بے بس ہوں کیوں مجبور ہوں میں سر آغاز و فکر ...