شاعری

خود کو ہر روز امتحان میں رکھ

خود کو ہر روز امتحان میں رکھ بال و پر کاٹ کر اڑان میں رکھ سن کے دشمن بھی دوست ہو جائے شہد سے لفظ بھی زبان میں رکھ یہ تو سچ ہے کہ وہ ستم گر ہے در پر آیا ہے تو امان میں رکھ مرحلے اور آنے والے ہیں تیر اپنا ابھی کمان میں رکھ وقت سب سے بڑا محاسب ہے بات اتنی مری دھیان میں رکھ تذکرہ ہو ...

مزید پڑھیے

ہر بار ہی میں جان سے جانے میں رہ گیا

ہر بار ہی میں جان سے جانے میں رہ گیا میں رسم زندگی جو نبھانے میں رہ گیا آتا ہے میری سمت غموں کا نیا ہجوم اللہ میں یہ کیسے زمانے میں رہ گیا وہ موسم بہار میں آ کر چلے گئے پھولوں کے میں چراغ جلانے میں رہ گیا ساتھی مرے کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے میں زندگی کے ناز اٹھانے میں رہ گیا دار ...

مزید پڑھیے

بنا کے وہم و گماں کی دنیا حقیقتوں کے سراب دیکھوں

بنا کے وہم و گماں کی دنیا حقیقتوں کے سراب دیکھوں میں اپنے ہی آئینے میں خود کو جہاں بھی دیکھوں خراب دیکھوں یہ کس کے سائے نے رفتہ رفتہ اک عکس موہوم کر دیا ہے عدم اگر ہے وجود میرا تو روز و شب کیوں عذاب دیکھوں بدل بدل کے ہر ایک پہلو فسانہ کیا کیا بنا رہا ہے بہت سے کردار آئے ہوں گے مگر ...

مزید پڑھیے

کبھی اقرار ہونا تھا کبھی انکار ہونا تھا

کبھی اقرار ہونا تھا کبھی انکار ہونا تھا اسے کس کس طرح سے در پئے آزار ہونا تھا سنا یہ تھا بہت آسودہ ہیں ساحل کے باشندے مگر ٹوٹی ہوئی کشتی میں دریا پار ہونا تھا صدائے الاماں دیوار گریہ سے پلٹ آئی مقدر کوفہ و کابل کا جو مسمار ہونا تھا مقدر کے نوشتے میں جو لکھا ہے وہی ہوگا یہ مت ...

مزید پڑھیے

جب انسان کو اپنا کچھ ادراک ہوا

جب انسان کو اپنا کچھ ادراک ہوا سارا عالم اس کی نظر میں خاک ہوا اس محفل میں میں بھی کیا بیباک ہوا عیب و ہنر کا سارا پردہ چاک ہوا اس کی گلی سے شاید ہو کر آیا ہے باد صبا کا جھونکا جو سفاک ہوا ضبط محبت کی پابندی ختم ہوئی شوق بدن کا سارا قصہ پاک ہوا اس بستی سے اپنا رشتۂ جاں منظرؔ آتے ...

مزید پڑھیے

وہ خواب ہی سہی پیش نظر تو اب بھی ہے

وہ خواب ہی سہی پیش نظر تو اب بھی ہے بچھڑنے والا شریک سفر تو اب بھی ہے زباں بریدہ سہی میں خزاں رسیدہ سہی ہرا بھرا مرا زخم ہنر تو اب بھی ہے ہماری در بہ دری پر نہ جائیے کہ ہمیں شعور سایۂ دیوار و در تو اب بھی ہے کہانیاں ہیں اگر معتبر تو پھر اک شخص کہانیوں کی طرح معتبر تو اب بھی ...

مزید پڑھیے

آئینۂ وحشت کو جلا جس سے ملی ہے

آئینۂ وحشت کو جلا جس سے ملی ہے وہ گرد رہ ترک مراسم سے اٹھی ہے صدیوں کے تسلسل میں کہیں گردش دوراں پہلے بھی کہیں تجھ سے ملاقات ہوئی ہے اے کرب و بلا خوش ہو نئی نسل نے اب کے خود اپنے لہو سے تری تاریخ لکھی ہے اس کج کلۂ عشق کو اے مشق ستم دیکھ سر تن پہ نہیں پھر بھی وہی سرو قدی ہے کس ...

مزید پڑھیے

دل کی جو آگ تھی کم اس کو بھی ہونے نہ دیا

دل کی جو آگ تھی کم اس کو بھی ہونے نہ دیا ہم تو روتے تھے مگر آپ نے رونے نہ دیا شمع کیوں پردۂ فانوس میں چھپ جاتی ہے اس نے پروانے کو قربان بھی ہونے نہ دیا یاد دلبر میں کبھی اے دل مضطر تو نے ہم کو چپ چاپ کہیں بیٹھ کے رونے نہ دیا آشیاں کا تو کوئی ذکر ہے کیا اے صیاد جمع تنکوں کو کبھی ...

مزید پڑھیے

وہ خواب ہی سہی پیش نظر تو اب بھی ہے

وہ خواب ہی سہی پیش نظر تو اب بھی ہے بچھڑنے والا شریک سفر تو اب بھی ہے زباں بریدہ سہی میں خزاں گزیدہ سہی ہرا بھرا مرا زخم ہنر تو اب بھی ہے سنا تھا ہم نے کہ موسم بدل گئے ہیں مگر زمیں سے فاصلۂ ابر تر تو اب بھی ہے ہماری در بدری پر نہ جائیے کہ ہمیں شعور سایۂ دیوار و در تو اب بھی ہے ہوس ...

مزید پڑھیے

تم ہو جو کچھ کہاں چھپاؤ گے

تم ہو جو کچھ کہاں چھپاؤ گے لکھنے والو نظر تو آؤ گے جب کسی کو قریب پاؤ گے ذائقہ اپنا بھول جاؤ گے آئنہ حیرتوں کا خواب نہیں خود سے آگے بھی خود کو پاؤ گے یہ حرارت لہو میں کے دن کی خودبخود اس کو بھول جاؤ گے آندھیاں روز مجھ سے پوچھتی ہیں گھر میں کس دن دیا جلاؤ گے سایہ روکے ہوئے ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 367 سے 4657