خود کو ہر روز امتحان میں رکھ
خود کو ہر روز امتحان میں رکھ بال و پر کاٹ کر اڑان میں رکھ سن کے دشمن بھی دوست ہو جائے شہد سے لفظ بھی زبان میں رکھ یہ تو سچ ہے کہ وہ ستم گر ہے در پر آیا ہے تو امان میں رکھ مرحلے اور آنے والے ہیں تیر اپنا ابھی کمان میں رکھ وقت سب سے بڑا محاسب ہے بات اتنی مری دھیان میں رکھ تذکرہ ہو ...