Mohammad Asadullah

محمد اسد اللہ

محمد اسد اللہ کی غزل

    ترے سوا کسے ڈھونڈوں سراب و صحرا میں

    ترے سوا کسے ڈھونڈوں سراب و صحرا میں تری ہی ذات کا پرتو ہر اک تمنا میں یہ تشنگی تو ازل سے ہے ہم سفر اپنی میں کل پہاڑ پر تشنہ تھا آج دریا میں ہیں سرد آہ سے جھونکے ہوا کے یخ بستہ گزشتہ رت سی اگن بھی نہیں ہے برکھا ہے گزر گزر کے ہر اک لمحہ سنگ زار ہوا بھٹک رہا ہوں میں یادو کے اک اجنتا ...

    مزید پڑھیے

    پیچھے پڑا غنیم کا لشکر ہے کیا کریں

    پیچھے پڑا غنیم کا لشکر ہے کیا کریں بے معجزہ عصا ہے سمندر ہے کیا کریں ہاں دست احتیاط میں خنجر ہے کیا کریں دشمن ہماری ذات کے اندر ہے کیا کریں لازم ہوا ہے تیشۂ دل کا سنبھالنا ہر دست یار غار میں پتھر ہے کیا کریں اس رخ سے اب کسی طرح ہٹتی نہیں نظر وہ سب سے اس جہان میں ہٹ کر ہے کیا ...

    مزید پڑھیے

    کوئی واسطہ معتبر بھی نہیں ہے

    کوئی واسطہ معتبر بھی نہیں ہے نہیں یوں ہے کہ دیوار و در بھی نہیں ندامت کے ان آسمانوں کے نیچے خلاؤں سے جائے مفر بھی نہیں ہے کوئی مجھ میں آسیب سا بس گیا ہے کجا چہرہ میرا تو سر بھی نہیں ہے مٹے رنگ و بو جستجو سلسلے سب بیاباں میں تتلی کا پر بھی نہیں ہے اداسی کے اندھے سفر میں ملا ...

    مزید پڑھیے

    چٹانوں کی طرح ہیں ہم مگر ٹوٹے ہوئے بھی ہیں (ردیف .. ے)

    چٹانوں کی طرح ہیں ہم مگر ٹوٹے ہوئے بھی ہیں یہاں ہر پل بکھرنے کا ہمیں اندیشہ رہتا ہے کبھی باطل بھگا کر حق کو لے جاتا ہے بستی سے کبھی حق بھیس میں باطل کے آ کر منہ چڑھاتا ہے کبھی اندیشۂ باطل ہمیں سونے نہیں دیتا کبھی حق نیم شب دروازہ آ کر کھٹکھٹاتا ہے فضائیں ایک مدت سے اذانوں کو ...

    مزید پڑھیے

    ڈھونڈھتا ہوں جگہ جگہ سایہ

    ڈھونڈھتا ہوں جگہ جگہ سایہ کیا اندھیرا ہوا ترا سایہ ہو گیا جسم بھی ہوا آخر دیکھتا رہ گیا میرا سایہ اپنے سائے میں آپ بیٹھا ہوں دھوپ جنگل میں مر گیا سایہ سائے کو کون دے گیا ہے بدن جسم کو کون کر گیا سایہ کیا جدائی کا غم اے رہرو خود سے رکھتے ہیں ہم جدا سایہ سائبانوں کو اب خدا ...

    مزید پڑھیے

    آنکھیں ہی اجڑ جائیں تو کیا خواب سجائیں

    آنکھیں ہی اجڑ جائیں تو کیا خواب سجائیں نظروں سے اتر جائے تو کیا دل میں بسائیں چیخو یہاں اظہار کا اثبات یہی ہے آواز کی قاتل ہیں یہ پر شور فضائیں اس محشر ادراک میں اک لمحہ عطا کر عشرت گہہ احساس میں ہم بھی اتر آئیں جسموں کے بلاوے میں گرفتار ہے صحرا اور لمس کی آواز میں محبوس ...

    مزید پڑھیے

    کہاں سے لائیں حکایات نو کہاں ہے نیا

    کہاں سے لائیں حکایات نو کہاں ہے نیا متاع زور بیاں ہی سے یہ جہاں ہے نیا الجھتا رہتا ہے کہنہ نقوش دوراں سے مرے وجود میں اک شخص جو نہاں ہے نیا ابھی نقوش مٹائے ہیں دل کے پتھر سے مری جبین پہ پھر زخم کا نشاں ہے نیا ہر ایک شے پہ وہی گرد ہے اداسی کی تم آ گئے ہو تو لگتا ہے یہ جہاں ہے نیا

    مزید پڑھیے

    کیوں بگولوں کی جستجو کیجے

    کیوں بگولوں کی جستجو کیجے دل کہاں تک لہو لہو کیجے کھو گئیں ہم نوائیاں ساری اپنے سائے سے گفتگو کیجے دیکھیے وقت کس طرح گزرا خود کے شیشے کے روبرو کیجے آرزو ہی تو زندگی ہے یہاں زندگی ہے تو آرزو کیجے لے چکی انتقام خاموشی اب تو کچھ ہم سے گفتگو کیجے

    مزید پڑھیے

    چلے تو راہ میں چبھنے لگے تھے سناٹے

    چلے تو راہ میں چبھنے لگے تھے سناٹے رکے تو شور سا اندر سنائی دیتا ہے یہ کس نے رکھ دی ہے دفتر میں گھر کی خاموشی جو گھر میں آئیں تو دفتر سنائی دیتا ہے الگ سا شور جو اپنے ہی گھر میں سنتے ہو نکل کے دیکھو تو گھر گھر سنائی دیتا ہے مجھے وہ کیوں مری تنہائیوں میں ملتا ہے وہ کون ہے مجھے ...

    مزید پڑھیے

    میں نے پیالہ ابھی پیا ہی نہیں

    میں نے پیالہ ابھی پیا ہی نہیں ایسا لگتا ہے میں جیا ہی نہیں عمر زنجیر اک حوادث کی سانس تو لی ہے دم لیا ہی نہیں ہر قدم پر ہے اک نیا رستہ اس گلی میں تو راستہ ہی نہیں منزلیں راستے قدم آنکھیں سب اندھیرے میں ہیں دیا ہی نہیں کیسی مشکل زمین کا ہے سفر ہے ردیف اور قافیہ ہی نہیں

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3