کیوں بگولوں کی جستجو کیجے

کیوں بگولوں کی جستجو کیجے
دل کہاں تک لہو لہو کیجے


کھو گئیں ہم نوائیاں ساری
اپنے سائے سے گفتگو کیجے


دیکھیے وقت کس طرح گزرا
خود کے شیشے کے روبرو کیجے


آرزو ہی تو زندگی ہے یہاں
زندگی ہے تو آرزو کیجے


لے چکی انتقام خاموشی
اب تو کچھ ہم سے گفتگو کیجے