میں نے پیالہ ابھی پیا ہی نہیں

میں نے پیالہ ابھی پیا ہی نہیں
ایسا لگتا ہے میں جیا ہی نہیں


عمر زنجیر اک حوادث کی
سانس تو لی ہے دم لیا ہی نہیں


ہر قدم پر ہے اک نیا رستہ
اس گلی میں تو راستہ ہی نہیں


منزلیں راستے قدم آنکھیں
سب اندھیرے میں ہیں دیا ہی نہیں


کیسی مشکل زمین کا ہے سفر
ہے ردیف اور قافیہ ہی نہیں