Mohammad Asadullah

محمد اسد اللہ

محمد اسد اللہ کی غزل

    اندھی بستی میں اک عجوبہ ہوں

    اندھی بستی میں اک عجوبہ ہوں آنکھ رکھتا ہوں اور گونگا ہوں دن تماشائی مجھ کو کیا جانے میری راتوں سے پوچھ کیسا ہوں رنگ دنیا بھی اک تماشا ہے اپنے ہاتھوں میں اک کھلونا ہوں میری مشعل سے رات پگھلی تھی صبح تنکا سا میں ہی بہتا ہوں کیا یہ دنیا ہی چاہ بابل ہے آدمی ہوں یا میں فرشتہ ...

    مزید پڑھیے

    تجھ کو آواز سے سمجھوں کہ بیاں سے دیکھوں

    تجھ کو آواز سے سمجھوں کہ بیاں سے دیکھوں معتبر کیا ہے بتا تجھ کو کہاں سے دیکھوں آب دیدہ ہوں میں خود زخم جگر سے اپنے تیری آنکھوں میں چھپا درد کہاں سے دیکھوں اس کھلی آنکھ پہ کھلتے نہیں اسرار ترے تو چھپا ہے تو تجھے چشم نہاں سے دیکھوں میں نے چاہا تھا صنم بن کے تو آنکھوں میں رہے تو نے ...

    مزید پڑھیے

    راستے منزلوں کے نوحہ گر (ردیف .. ن)

    راستے منزلوں کے نوحہ گر منزلیں راستوں کے ماتم میں زندگی دم بہ دم یہی طوفاں تم ہراساں ہوئے ذرا دم میں خاک پیروں تلے وہی لیکن سانس لیتے ہیں اور عالم میں رات رانی سا تو مہکتا ہے میری یادوں کے سبز البم میں ایک شمع امید جیسا تو اس پگھلتی ہوئی شب غم میں

    مزید پڑھیے

    لہو میں ڈوبے ستم رسیدہ فگار چہرے

    لہو میں ڈوبے ستم رسیدہ فگار چہرے کتاب جیسے کھلے ہوئے بے شمار چہرے رہین دوراں گراں بہا صورتیں ہماری ہمارے جسموں کی زینتیں مستعار چہرے ہزار چہرہ کتاب آنکھوں کے روبرو ہے مگر سر راہ بھی جو مل جائیں چار چار چہرے کوئی متاع عزیز از جاں چھنی ہے سب سے جدھر بھی دیکھوں ہیں روبرو سوگوار ...

    مزید پڑھیے

    ترا ساتھ پائیں کہاں یہ کھلے پر

    ترا ساتھ پائیں کہاں یہ کھلے پر ترے اور مرے درمیاں یہ کھلے پر فلک زائیدہ چھاؤں مرنے لگی ہے سمٹتا ہوا سائباں یہ کھلے پر طلسموں کی ماری بھٹکتی نگاہیں بھلا پھر سمٹتے کہاں یہ کھلے پر مری آنکھ صحرا بکھرتے بتوں کا دشاؤں کے نوحہ کناں یہ کھلے پر میں برگ شکستہ ہوں دست ہوا پر فقط میرا ...

    مزید پڑھیے

    اس پر نہ جا کہ دشت سی ویراں ہیں پتلیاں (ردیف .. ے)

    اس پر نہ جا کہ دشت سی ویراں ہیں پتلیاں وہ دن بھی تھے کہ خواب کے ہیرے جڑے رہے پوشیدہ تل کی اوٹ میں کہسار جاں رہا برسوں ہماری ذات پہ پردے پڑے رہے اک دندناتی ریل سی عمریں گزر گئیں دو پٹریوں کے بیچ وہی فاصلے رہے اک عمر تیری یاد کے شہر طلسم میں پتھر کا نصف آدمی بن کر کھڑے رہے اس خاک ...

    مزید پڑھیے

    غم کم ہیں زندگی میں ذرا اور پالئے

    غم کم ہیں زندگی میں ذرا اور پالئے جو مسئلے نہیں ہیں انہیں بھی اچھالیے اک لغزش قدم بھی کبھی سر اڑا گئی دستار چھوڑ دیجیے خود کو سنبھالئے بس ہاتھ تیرا ہاتھ میں آ نے کی دیر تھی سب مہر و ماہ و ارض و سما ہم نے پا لئے راہی یہ سنگ میل نہیں سنگ راہ ہیں بت بس گئے ہیں کعبۂ دل میں نکالیے اب ...

    مزید پڑھیے

    بھول جانے کو ہے جہاں سارا (ردیف .. ت)

    بھول جانے کو ہے جہاں سارا یاد رکھنے کو اک خدا ہے بہت ہے جو پیش نظر پرے اس سے منظر اک اور دل ربا ہے بہت گونجتی آہٹیں نہیں تھمتیں میرے اندر کوئی رہا ہے بہت گمرہی سے ہے اپنی ناواقف راستوں کو وہ جانتا ہے بہت میری دیوانگی جلائے چراغ روشنی گم ہے اور ہوا ہے بہت یہ عذابوں کا سلسلہ ...

    مزید پڑھیے

    اپنا چہرہ دکھا گئیں لہریں

    اپنا چہرہ دکھا گئیں لہریں بستیوں کو ڈرا گئیں لہریں ریت پر رات زندگی لکھی صبح آ کر مٹا گئیں لہریں ان زمینوں کی کوکھ سے جنمے آسمانوں کو کھا گئیں لہریں جس سے روشن تھا دل کا ویرانہ وہ دیا بھی بجھا گئیں لہریں کوئی تھامے ہوئے تھا ڈور ادھر اب کے سب کو بتا گئیں لہریں میرا چہرہ تھا ...

    مزید پڑھیے

    نہیں شریک عذابوں کا جان جاں کوئی

    نہیں شریک عذابوں کا جان جاں کوئی خدا گواہ نہیں ہے نہیں یہاں کوئی وہ دیکھو بانہہ پسارے ہے سامنے منزل فقط گماں ہے کہ ہے راہ درمیاں کوئی چبھن سی کیسے پرو دی ہے اس نے سانسوں میں شکایتوں میں نمایاں ہے مہرباں کوئی عنایتیں ہیں تری دھوپ سرد موسم کی بڑھے جو حد سے تو بیٹھے بھلا کہاں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3