کہاں سے لائیں حکایات نو کہاں ہے نیا

کہاں سے لائیں حکایات نو کہاں ہے نیا
متاع زور بیاں ہی سے یہ جہاں ہے نیا


الجھتا رہتا ہے کہنہ نقوش دوراں سے
مرے وجود میں اک شخص جو نہاں ہے نیا


ابھی نقوش مٹائے ہیں دل کے پتھر سے
مری جبین پہ پھر زخم کا نشاں ہے نیا


ہر ایک شے پہ وہی گرد ہے اداسی کی
تم آ گئے ہو تو لگتا ہے یہ جہاں ہے نیا