ترے سوا کسے ڈھونڈوں سراب و صحرا میں
ترے سوا کسے ڈھونڈوں سراب و صحرا میں
تری ہی ذات کا پرتو ہر اک تمنا میں
یہ تشنگی تو ازل سے ہے ہم سفر اپنی
میں کل پہاڑ پر تشنہ تھا آج دریا میں
ہیں سرد آہ سے جھونکے ہوا کے یخ بستہ
گزشتہ رت سی اگن بھی نہیں ہے برکھا ہے
گزر گزر کے ہر اک لمحہ سنگ زار ہوا
بھٹک رہا ہوں میں یادو کے اک اجنتا میں
شب حیات گزاری سبھی نے خوابوں میں
ہم ہی کو راس نہ آئے حباب دریا میں