پیچھے پڑا غنیم کا لشکر ہے کیا کریں

پیچھے پڑا غنیم کا لشکر ہے کیا کریں
بے معجزہ عصا ہے سمندر ہے کیا کریں


ہاں دست احتیاط میں خنجر ہے کیا کریں
دشمن ہماری ذات کے اندر ہے کیا کریں


لازم ہوا ہے تیشۂ دل کا سنبھالنا
ہر دست یار غار میں پتھر ہے کیا کریں


اس رخ سے اب کسی طرح ہٹتی نہیں نظر
وہ سب سے اس جہان میں ہٹ کر ہے کیا کریں


قد آوری ہے اور کڑی دھوپ کا ہے قہر
یہ آتشیں چنار مقدر ہے کیا کریں


رستے نہیں ہیں رات کی ہیں دھجیاں تمام
ہر سو شکست ذات کا منظر ہے کیا کریں