ڈھونڈھتا ہوں جگہ جگہ سایہ
ڈھونڈھتا ہوں جگہ جگہ سایہ
کیا اندھیرا ہوا ترا سایہ
ہو گیا جسم بھی ہوا آخر
دیکھتا رہ گیا میرا سایہ
اپنے سائے میں آپ بیٹھا ہوں
دھوپ جنگل میں مر گیا سایہ
سائے کو کون دے گیا ہے بدن
جسم کو کون کر گیا سایہ
کیا جدائی کا غم اے رہرو
خود سے رکھتے ہیں ہم جدا سایہ
سائبانوں کو اب خدا حافظ
سر پہ میرے ہے خود خدا سایہ