Mohammad Asadullah

محمد اسد اللہ

محمد اسد اللہ کے تمام مواد

23 غزل (Ghazal)

    ترے سوا کسے ڈھونڈوں سراب و صحرا میں

    ترے سوا کسے ڈھونڈوں سراب و صحرا میں تری ہی ذات کا پرتو ہر اک تمنا میں یہ تشنگی تو ازل سے ہے ہم سفر اپنی میں کل پہاڑ پر تشنہ تھا آج دریا میں ہیں سرد آہ سے جھونکے ہوا کے یخ بستہ گزشتہ رت سی اگن بھی نہیں ہے برکھا ہے گزر گزر کے ہر اک لمحہ سنگ زار ہوا بھٹک رہا ہوں میں یادو کے اک اجنتا ...

    مزید پڑھیے

    پیچھے پڑا غنیم کا لشکر ہے کیا کریں

    پیچھے پڑا غنیم کا لشکر ہے کیا کریں بے معجزہ عصا ہے سمندر ہے کیا کریں ہاں دست احتیاط میں خنجر ہے کیا کریں دشمن ہماری ذات کے اندر ہے کیا کریں لازم ہوا ہے تیشۂ دل کا سنبھالنا ہر دست یار غار میں پتھر ہے کیا کریں اس رخ سے اب کسی طرح ہٹتی نہیں نظر وہ سب سے اس جہان میں ہٹ کر ہے کیا ...

    مزید پڑھیے

    کوئی واسطہ معتبر بھی نہیں ہے

    کوئی واسطہ معتبر بھی نہیں ہے نہیں یوں ہے کہ دیوار و در بھی نہیں ندامت کے ان آسمانوں کے نیچے خلاؤں سے جائے مفر بھی نہیں ہے کوئی مجھ میں آسیب سا بس گیا ہے کجا چہرہ میرا تو سر بھی نہیں ہے مٹے رنگ و بو جستجو سلسلے سب بیاباں میں تتلی کا پر بھی نہیں ہے اداسی کے اندھے سفر میں ملا ...

    مزید پڑھیے

    چٹانوں کی طرح ہیں ہم مگر ٹوٹے ہوئے بھی ہیں (ردیف .. ے)

    چٹانوں کی طرح ہیں ہم مگر ٹوٹے ہوئے بھی ہیں یہاں ہر پل بکھرنے کا ہمیں اندیشہ رہتا ہے کبھی باطل بھگا کر حق کو لے جاتا ہے بستی سے کبھی حق بھیس میں باطل کے آ کر منہ چڑھاتا ہے کبھی اندیشۂ باطل ہمیں سونے نہیں دیتا کبھی حق نیم شب دروازہ آ کر کھٹکھٹاتا ہے فضائیں ایک مدت سے اذانوں کو ...

    مزید پڑھیے

    ڈھونڈھتا ہوں جگہ جگہ سایہ

    ڈھونڈھتا ہوں جگہ جگہ سایہ کیا اندھیرا ہوا ترا سایہ ہو گیا جسم بھی ہوا آخر دیکھتا رہ گیا میرا سایہ اپنے سائے میں آپ بیٹھا ہوں دھوپ جنگل میں مر گیا سایہ سائے کو کون دے گیا ہے بدن جسم کو کون کر گیا سایہ کیا جدائی کا غم اے رہرو خود سے رکھتے ہیں ہم جدا سایہ سائبانوں کو اب خدا ...

    مزید پڑھیے

تمام

9 نظم (Nazm)

    عید

    دلوں میں پیار جگانے کو عید آئی ہے ہنسو کہ ہنسنے ہنسانے کو عید آئی ہے مسرتوں کے خزانے دیئے خدا نے ہمیں ترانے شکر کے گانے کو عید آئی ہے مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے خوشا کہ شیر و شکر ہو گئے گلے مل کر خلوص دل ہی دکھانے کو عید آئی ہے اٹھا دو ...

    مزید پڑھیے

    سال نو مبارک

    مبارک مبارک نیا سال سب کو نہ چاہا تھا ہم نے تو ہم سے جدا ہو مگر کس نے روکا ہے بہتی ہوا کو جو ہم چاہتے ہیں وہ کیسے بھلا ہو اے جاتے برس تجھ کو سونپا خدا کو مبارک مبارک نیا سال سب کو مبارک گھڑی میں یہ ہم عہد کر لیں بصد شان ہم زندگی میں سنور لیں گلوں کی طرح گلستاں میں نکھر لیں بنیں ہم ...

    مزید پڑھیے

    بھنڈی بولی ٹِنڈے سے

    بھنڈی بولی ٹنڈے سے اکڑ رہے ہو ٹھنڈے سے آئے کہاں سے ہو بابو ٹنڈا بولا ''میں آیا جی بھٹنڈے سے'' بھنڈی نے پھر منہ کھولا کب سے ہو اس منڈی میں بولا ''پچھلے سنڈے سے'' دوستی بھی ہے کسی سے کی ''بس مرغی کے انڈے سے ''ڈرتے بھی ہو کسی سے تم'' ''جی بائی جی! ڈنڈے سے''

    مزید پڑھیے

    مسٹر چیونگم

    ان سے ملیے یہ ہیں مسٹر چیونگم منہ میں اپنے رکھ لو ان کو دانتوں سے پھر کچلو ان کو چکھ لو پر نہ نگلو ان کو چکھنے سے نہ ہوں گے کم یہ ہیں مسٹر چیونگم بچے بڑے ان کے دیوانے چلے ہیں سارے ان کو کھانے جان کے بنتے یہ ان جانے ان کو کوئی نہیں ہے غم یہ ہیں مسٹر چیونگم لال ہرے اور پیلے ہیں کپڑے ...

    مزید پڑھیے

    مرغا

    ککڑوں کوں جی ککڑوں کوں دیکھو میں اک مرغا ہوں تم ہو انساں سوئے ہوئے اور میں دیکھو جاگا ہوں رات کو جاتے دیکھ چکا صبح کی آہٹ سنتا ہوں منظر صبح کا ہے ایسا تم کو کیوں آواز نہ دوں سورج کا رتھ نکلا ہے بستر میں تم چھپے ہو کیوں سن لی میری بانگ مگر پھر بھی نہ رینگی کان پہ جوں

    مزید پڑھیے

تمام