کنار برگ تبسم لرزتا قطرہ ہے
کنار برگ تبسم لرزتا قطرہ ہے زمیں کی کوکھ میں لاوا پگھلتا رہتا ہے سلگ رہی ہیں دل و جاں کی کائناتیں اور لبوں کی اوٹ میں شعلہ چھپائے رکھا ہے حباب سی کسی ساعت میں تجھ سے ملنے کو کئی یگوں کا مجھے انتظار کرنا ہے ترے فراق میں بدلے ہیں ایسے کون و مکاں اداس رات میں اک دوپہر بھی زندہ ...