Mohammad Asadullah

محمد اسد اللہ

محمد اسد اللہ کی غزل

    کنار برگ تبسم لرزتا قطرہ ہے

    کنار برگ تبسم لرزتا قطرہ ہے زمیں کی کوکھ میں لاوا پگھلتا رہتا ہے سلگ رہی ہیں دل و جاں کی کائناتیں اور لبوں کی اوٹ میں شعلہ چھپائے رکھا ہے حباب سی کسی ساعت میں تجھ سے ملنے کو کئی یگوں کا مجھے انتظار کرنا ہے ترے فراق میں بدلے ہیں ایسے کون و مکاں اداس رات میں اک دوپہر بھی زندہ ...

    مزید پڑھیے

    لو آ گیا ہے کوہ ندا کان نہ دھرو

    لو آ گیا ہے کوہ ندا کان نہ دھرو اک شور ہر طرف ہے بپا کان نہ دھرو چھپ جاؤ ان پروں میں مسافت سمیٹ لو مسموم ہو گئی ہے فضا کان نہ دھرو ہم بولنے کے کام پر مامور ہیں مگر کچھ زہر بھی ہے اس میں بھرا کان نہ دھرو ہر دل میں بے قرار سی اک لہر موجزن ہر لب پہ ہے کسی کا گلہ کان نہ دھرو لب حرف ...

    مزید پڑھیے

    لطف پہچان کا بھی تو لو اجنبی

    لطف پہچان کا بھی تو لو اجنبی ہم سے مل مل کے یوں نہ بنو اجنبی اجنبی پن ہے شیوہ مرے شہر کا آئے ہو جو یہاں بن رہو اجنبی بھیڑ ہی سے مخاطب ہو تم دیر سے خود سے بھی تو کبھی کچھ کہو اجنبی سہہ نہ پاؤ گے مجلس کی تنہائیاں اس سے بہتر ہے تنہا رہو اجنبی ٹوٹنا ہی حبابوں کی تقدیر ہے ان مراسم کو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3