کوئی واسطہ معتبر بھی نہیں ہے

کوئی واسطہ معتبر بھی نہیں ہے
نہیں یوں ہے کہ دیوار و در بھی نہیں


ندامت کے ان آسمانوں کے نیچے
خلاؤں سے جائے مفر بھی نہیں ہے


کوئی مجھ میں آسیب سا بس گیا ہے
کجا چہرہ میرا تو سر بھی نہیں ہے


مٹے رنگ و بو جستجو سلسلے سب
بیاباں میں تتلی کا پر بھی نہیں ہے


اداسی کے اندھے سفر میں ملا کیا
یہاں شب نہیں ہے سحر بھی نہیں ہے