Mohammad Asadullah

محمد اسد اللہ

محمد اسد اللہ کی نظم

    عید

    دلوں میں پیار جگانے کو عید آئی ہے ہنسو کہ ہنسنے ہنسانے کو عید آئی ہے مسرتوں کے خزانے دیئے خدا نے ہمیں ترانے شکر کے گانے کو عید آئی ہے مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے خوشا کہ شیر و شکر ہو گئے گلے مل کر خلوص دل ہی دکھانے کو عید آئی ہے اٹھا دو ...

    مزید پڑھیے

    سال نو مبارک

    مبارک مبارک نیا سال سب کو نہ چاہا تھا ہم نے تو ہم سے جدا ہو مگر کس نے روکا ہے بہتی ہوا کو جو ہم چاہتے ہیں وہ کیسے بھلا ہو اے جاتے برس تجھ کو سونپا خدا کو مبارک مبارک نیا سال سب کو مبارک گھڑی میں یہ ہم عہد کر لیں بصد شان ہم زندگی میں سنور لیں گلوں کی طرح گلستاں میں نکھر لیں بنیں ہم ...

    مزید پڑھیے

    بھنڈی بولی ٹِنڈے سے

    بھنڈی بولی ٹنڈے سے اکڑ رہے ہو ٹھنڈے سے آئے کہاں سے ہو بابو ٹنڈا بولا ''میں آیا جی بھٹنڈے سے'' بھنڈی نے پھر منہ کھولا کب سے ہو اس منڈی میں بولا ''پچھلے سنڈے سے'' دوستی بھی ہے کسی سے کی ''بس مرغی کے انڈے سے ''ڈرتے بھی ہو کسی سے تم'' ''جی بائی جی! ڈنڈے سے''

    مزید پڑھیے

    مسٹر چیونگم

    ان سے ملیے یہ ہیں مسٹر چیونگم منہ میں اپنے رکھ لو ان کو دانتوں سے پھر کچلو ان کو چکھ لو پر نہ نگلو ان کو چکھنے سے نہ ہوں گے کم یہ ہیں مسٹر چیونگم بچے بڑے ان کے دیوانے چلے ہیں سارے ان کو کھانے جان کے بنتے یہ ان جانے ان کو کوئی نہیں ہے غم یہ ہیں مسٹر چیونگم لال ہرے اور پیلے ہیں کپڑے ...

    مزید پڑھیے

    مرغا

    ککڑوں کوں جی ککڑوں کوں دیکھو میں اک مرغا ہوں تم ہو انساں سوئے ہوئے اور میں دیکھو جاگا ہوں رات کو جاتے دیکھ چکا صبح کی آہٹ سنتا ہوں منظر صبح کا ہے ایسا تم کو کیوں آواز نہ دوں سورج کا رتھ نکلا ہے بستر میں تم چھپے ہو کیوں سن لی میری بانگ مگر پھر بھی نہ رینگی کان پہ جوں

    مزید پڑھیے

    چھٹی کا زمانہ

    اسکول بند ہیں سب اب سیر کو ہے جانا لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا بستہ کتاب کاپی سب چھٹیاں منائیں بار گراں سے ان کے ہم بھی نجات پائیں بستے میں جو بندھا ہے اس کو جہاں میں دیکھیں کیا کیا کہاں چھپا ہے آؤ پتہ لگائیں سنتے ہیں کچھ عجب ہے دنیا کا کارخانہ لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس ...

    مزید پڑھیے

    استاد ہمارے

    استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے ان ہی سے ہیں افراد ضیا بار ہمارے جینے کا سلیقہ بھی ہمیں ان سے ملا ہے احساس عمل فکر بھی ان ہی کی عطا ہے ان ہی کی ہے تعلیم جو عرفان خدا ہے ان ہی سے معطر ہوئے افکار ہمارے استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے تاریک ہوں راہیں تو یہی راہ سجھائیں اسرار دو ...

    مزید پڑھیے

    برسات آ گئی ہے

    گرمی کے ظلم سے یہ دنیا دہک رہی تھی پیاسی زمین کب سے آکاش تک رہی تھی موسم کو کیا ہوا ہے پل میں بدل گیا ہے لو بن کے چل رہی تھی یہ تو وہی ہوا ہے دیکھو چلی ہوائیں چلائیں سائیں سائیں بادل کو ساتھ اپنے ہر سمت لے کے جائیں تھم تھم چلے ہیں بادل ڈم ڈم بجے ہیں بادل کھولی ہے آسماں نے بادل کی ...

    مزید پڑھیے

    سرکس

    شہر میں سرکس آیا ہے کھیل تماشے لایا ہے ہاتھی اونٹ اور گھوڑے ہیں سب ہی یوں تو بھگوڑے ہیں سب کو پکڑ کر لایا ہے شہر میں سرکس آیا ہے اڑتی اچھلتی کار بھی ہے کھیلوں کی بھر مار بھی ہے سارے کھلاڑی اور جوکر تار پہ چلتے ہیں سرسر شہر امڈ کر آیا ہے شہر میں سرکس آیا ہے شیر بھی ہے اور بکری ...

    مزید پڑھیے