سچ کے اظہار کا شعروں کو بہانہ جانا

سچ کے اظہار کا شعروں کو بہانہ جانا
بچ رہے یوں کہ زمانے نے فسانہ جانا


سخت معتوب رہے اور خطا اتنی تھی
جو خدا نہ تھا اسے ہم نے خدا نہ جانا


اس قدر بھی نہ جری تھے کہ الجھتے سب سے
شور شب خوں کو مگر بانگ درا نہ جانا


اب کے الزام لگا ہم پہ کھلی آنکھوں کا
جو نظر آیا اسے اس سے سوا نہ جانا


کم ہی ملتے ہو مگر یہ ہے یقیں کا عالم
ہم نے پل بھر کو تمہیں خود سے جدا نہ جانا


میں وہ نا شکر کہ ہر بار ملاقات کے بعد
میں نے ہر لمحۂ فرقت کو زمانہ جانا


رحم کھاتے ہیں ہیں مرے حال پہ اہل دنیا
میں نے ایمان کو دنیا میں خزانہ جانا