عذاب ہم پہ جو نازل ہوا خدا سے نہ تھا
عذاب ہم پہ جو نازل ہوا خدا سے نہ تھا
کہ تو رضا سے مقدر ہوا قضا سے نہ تھا
یہ حال زار تو آشوب آگہی سے ہوا
کہ گل دریدہ جگر موجۂ صبا سے نہ تھا
کھنڈر تو شہر دل اندر کے زلزلوں سے ہوا
یہ ظلم تیری جفا یا تری وفا سے نہ تھا
بکھرے گئے گل نازک ہوا کے جھونکے سے
گلا جو تھا تو نزاکت سے تھا ہوا سے نہ تھا
دل و دماغ پہ تھا اختیار ہم کو بھی
حیات پر یہ تصرف ترا سدا سے نہ تھا
تری حیات کھلونا بنی مقدر کا
سبب یہ ہے کہ ترا رابطہ خدا سے نہ تھا
مجھے تو جو بھی ملا آئنہ بدست ملا
میں جبر غیر سے تھا خود نگر انا سے نہ تھا