راہبر کیا کرے دعا کے سوا
راہبر کیا کرے دعا کے سوا
سب ہیں کج رو شکستہ پا کے سوا
پستئ خاک سے گلہ تو بجا
کیا ملا اوج پر خلا کے سوا
سب دکھاتے ہیں آگ خرمن کو
ہے محافظ کوئی خدا کے سوا
اب تو سب کو ہی آزما بیٹھے
ماسوا خود کے اور خدا کے سوا
کون ہم سے قدم ملا کے چلا
ایک صبر گریز پا کے سوا