دوستی کی جستجو ہے شہر میں

دوستی کی جستجو ہے شہر میں
ہم بھی موتی ڈھونڈتے ہیں نہر میں


غور سے دیکھا تو ہر خورشید چاند
طبع روشن کتنی کم ہے دہر میں


جب بھی چاہا چل پڑی ماضی کی فلم
ایسی قدرت یاد کی اک لہر میں


جانتے ہیں کچھ ہمیں انساں زدہ
فرق انساں اور خدا کے قہر میں


شدت احساس تھی انعام عشق
شہد اب شیریں نہ تلخی زہر میں


ریت پر تھے کس قدر نقش جمیل
ہو گئے سب جذب چڑھتی لہر میں