پھر ملاقات میں ہے عشق کے آغاز کا رنگ
پھر ملاقات میں ہے عشق کے آغاز کا رنگ
وہی آواز کی نکہت وہی انداز کا رنگ
عام الفاظ میں پوشیدہ معانی کی تہیں
ہر نگاہ غلط انداز لیے راز کا رنگ
سرنگوں ہیبت جلاد و شکوہ سلطاں
دیدنی دار پہ تھا عشق سر افراز کا رنگ
آئے محفل میں تو لرزی ہیں چراغوں کی لویں
ان کے دیدار سے ہے شوخ گل ناز کا رنگ
حال دل چھپ نہ سکا پردۂ خاموشی میں
ترجماں دل کا بنا عارض غماز کا رنگ