حقیقتوں کا بھی عرفاں ہو سوز جاں بھی رہے
حقیقتوں کا بھی عرفاں ہو سوز جاں بھی رہے
خلا میں بھی ہو قدم سر پہ آسماں بھی رہے
یہ گر سمجھنا ہے یاران صاف گو سے مجھے
زباں پہ بات بھی ہو دل کی اور زباں بھی رہے
محبتوں کے یہ پہلو ہیں کچھ تضاد نہیں
کہ اعتبار بھی کامل تھا بد گماں بھی رہے
کسی کسی کو ہی حاصل ہے یہ قرینۂ زیست
کہ برق عشق بھی ہو اور آشیاں بھی رہے
یہ اہتمام خرد سے بہت بعید نہیں
کہ راہزن بھی رہے خود ہی پاسباں بھی رہے