جب گنا قرض چکانے آئے
جب گنا قرض چکانے آئے
سب کے پھر ہوش ٹھکانے آئے
تھم گئی گرد تو سب نے دیکھا
سب تباہی کے دہانے آئے
کس بلا کی ہے کشش وعدوں میں
لوگ پھر جان لٹانے آئے
میرے ہمدرد ہیں ناداں کتنے
ہجر کا درد بٹانے آئے
دل کا یہ حال ہوا ہے جن سے
وہ بھی احسان جتانے آئے