Daud Nishat

داؤد نشاط

داؤد نشاط کی غزل

    محدود ہے یہ وسعت عالم بھی نظر میں

    محدود ہے یہ وسعت عالم بھی نظر میں گم ہو گیا ہوں ایسا تری راہ گزر میں میں کشمکش دہر سے بے علم ہوں اب تک تو خود ہی بتا کون ہے ہر چیز میں شر میں دنیا مرے معیار پہ اترے گی نہ تا عمر یہ تو ہے کھلونا مری نم دیدہ نظر میں عنقا ہے زمانے سے مساوات و اخوت اوصاف بشر ڈھونڈنے نکلے ہو بشر ...

    مزید پڑھیے

    زندگی کو موت کی زد پر جو لا سکتا نہیں

    زندگی کو موت کی زد پر جو لا سکتا نہیں موت کے آغوش میں وہ مسکرا سکتا نہیں اس کی تہمت اپنے سر بار امانت لے لیا بوجھ وہ انساں جو اپنا بھی اٹھا سکتا نہیں ربط ہے ہر شے سے پھر بھی اس جہاں میں دوستو آدمی خود آدمی کے کام آ سکتا نہیں یہ جہاں ہے آزمائش گاہ ارباب وفا لاکھ چاہے بھی تو انساں ...

    مزید پڑھیے

    وہ مرا کثرت انوار سے حیراں ہونا

    وہ مرا کثرت انوار سے حیراں ہونا ہر طرف طور بکف ان کا نمایاں ہونا کس قدر ہے تری رحمت پہ بھروسا یا رب مجھ کو آیا نہ گناہوں پہ پشیماں ہونا اہل دل چل تو دئے ہیں در جاناں کی طرف کس کی قسمت میں ہے خاک در جاناں ہونا ان کے وعدے کی خوشی کا یہ مکمل ہے ثبوت شام سے پہلے مرے گھر میں چراغاں ...

    مزید پڑھیے

    لغزش سے رہنماؤں کی جب ہم سنبھل گئے

    لغزش سے رہنماؤں کی جب ہم سنبھل گئے منزل قریب آئی تو رستے بدل گئے ہر راہ رو سے تیرا پتہ پوچھتے ہوئے ہم راہ دیر و کعبہ سے آگے نکل گئے پھوٹی ہے جب بھی تیرے تبسم کی اک کرن گھبرا کے خود بخود ہی اندھیرے پگھل گئے رندان‌ تشنہ کام کو اب مے سے کیا غرض ساقی کی چشم مست سے جب دور چل گئے اب ...

    مزید پڑھیے

    روشنی کب تھی مرے داغ جگر سے پہلے

    روشنی کب تھی مرے داغ جگر سے پہلے اس نے پائی ہے ضیا شمس و قمر سے پہلے اشک اب تک مری آنکھوں سے نہ برسے پہلے ہونٹ شبنم کے بھی اک بوند کو ترسے پہلے جس کی تنویر میں پنہاں تھیں ہزاروں ظلمات اک سحر ایسی بھی دیکھی ہے سحر سے پہلے میری خوددار طبیعت کا تقاضا تھا یہی آشیاں پھونک دیا برق و ...

    مزید پڑھیے

    کب ہوس کاروں نے دنیا کے دہانے دیکھے

    کب ہوس کاروں نے دنیا کے دہانے دیکھے ڈوبنے کے جو تھے دنیا میں ٹھکانے دیکھے اپنے خلوت‌ کدۂ غم میں رہے اہل حجاب بے حجابی نے تو محشر کے زمانے دیکھے سرخیاں جن کی ہیں مرکوز نگاہ عالم تم نے وہ قصے پڑھے ہیں جو فسانے دیکھے ایک ہلکا سا بھی پرتو نظر آیا نہ ترا یوں تو ہم نے بھی کئی آئنہ ...

    مزید پڑھیے

    مانا رہ حیات میں تنہا حیات ہے

    مانا رہ حیات میں تنہا حیات ہے محسوس ہو رہا ہے کوئی ساتھ ساتھ ہے کیا غم بچھڑ گیا ہوں اگر کارواں سے میں تم ساتھ ہو تو ساتھ مرے کائنات ہے وہ مسکرا دیے تو ہے عالم ہی دوسرا روشن مری حیات کی تاریک رات ہے شاید ہے منتشر ابھی شیرازۂ وجود کیوں ورنہ آدمی سے گریزاں حیات ہے میں حادثات دہر ...

    مزید پڑھیے

    سکون دل کو نظر کو مری قرار نہیں

    سکون دل کو نظر کو مری قرار نہیں یہ ایک مرگ مسلسل ہے انتظار نہیں کلی کے لب پہ تبسم کو ڈھونڈنے والو برائے نام بھی گلشن میں اب بہار نہیں ہمیں پہنچنے سے منزل پہ کون روکے گا ہماری راہ میں جب یاس کا غبار نہیں کرو وہ مشق کہ ہنستے رہو خزاں میں بھی گل و چمن میں بہاروں پہ اعتبار نہیں خدا ...

    مزید پڑھیے

    جب تک کہ دل میں جذبۂ دیوانگی نہ ہو

    جب تک کہ دل میں جذبۂ دیوانگی نہ ہو لذت کش حیات وفا بے خودی نہ ہو کیا وہ کریں گے جلوۂ جاناں کی آرزو جن کی نظر میں جرأت نظارگی نہ ہو گھبرا گیا ہوں زیست کی تلخی سے اس قدر اس زندگی کے بعد کوئی زندگی نہ ہو مانا خوشی میں ہوتا ہے بے خود ہر آدمی خود کو بھی بھول جاؤں میں ایسی خوشی نہ ہو آ ...

    مزید پڑھیے

    مرا وجود سمندر نہیں میں قطرہ ہوں

    مرا وجود سمندر نہیں میں قطرہ ہوں ہر ایک موج کی آغوش میں مچلتا ہوں میں مشت خاک ہوں گرد و غبار جیسا ہوں تمام وسعت عالم پہ پھر بھی چھایا ہوں قضا و قدر کا منظر مری نگاہ میں ہے حیات ور ہوں اجل سے نظر ملاتا ہوں یہ دہشتوں کے چھلاوے یہ آفتوں کے پہاڑ خدا کا شکر کہ اس دور میں بھی زندہ ...

    مزید پڑھیے