قومی زبان

وہ جس کے حصے میں درد جگر نہیں آتا

وہ جس کے حصے میں درد جگر نہیں آتا اس آدمی کی دعا میں اثر نہیں آتا میں آئنہ ہوں جو دیکھوں گا وہ دکھاؤں گا فریب دینے کا مجھ کو ہنر نہیں آتا غبار راہ سے بچ بچ کے چلنے والوں کو تمام عمر شعور سفر نہیں آتا دیار زیست کو کیا ہو گیا کہ دور تلک اداسیوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا حکومتیں مری ...

مزید پڑھیے

تجھ سے ملنے کی آرزو ہے بہت

تجھ سے ملنے کی آرزو ہے بہت اس لئے تیری جستجو ہے بہت زندگی کے نگار خانے میں ایک میں اور ایک تو ہے بہت ناصح محترم خدا حافظ آج اتنی ہی گفتگو ہے بہت گردش وقت تجھ سے لڑنے کو ان رگوں میں ابھی لہو ہے بہت ساری دنیا کی بیٹیاں سن لیں اس غریبی میں آبرو ہے بہت

مزید پڑھیے

جب غم دوست رگ و پے میں سما جاتا ہے

جب غم دوست رگ و پے میں سما جاتا ہے تب کہیں جا کے دعاؤں میں اثر آتا ہے دل مرا جب بھی شب تار سے گھبراتا ہے شمع سی آ کے کوئی دل میں جلا جاتا ہے سوچتا ہوں کہ ترا درد نہ کھو جائے کہیں اب تو ہر غم مری تنہائی سے ٹکراتا ہے تم نہیں وہ بھی نہیں وہ بھی نہیں وہ بھی نہیں کون ہے پھر جو غریبوں پہ ...

مزید پڑھیے

دامن زیست کو اشکوں سے بھگو لیتے ہیں

دامن زیست کو اشکوں سے بھگو لیتے ہیں جن کو ہنسنا نہیں آتا ہے وہ رو لیتے ہیں ہر خوشی غم کے اندھیروں میں سمو لیتے ہیں دفعتاً ہم جو تری یاد میں رو لیتے ہیں ہم وہ وحشی ہیں کہ جب نیند ہمیں آتی ہے طوق و زنجیر کے پہلو میں بھی سو لیتے ہیں اب یہ عالم ہے کہ جب یاد تری آتی ہے اک ذرا دیر کو ...

مزید پڑھیے

رنج و غم دیتا ہے یا داد وفا دیتا ہے

رنج و غم دیتا ہے یا داد وفا دیتا ہے دیکھنا یہ ہے زمانہ مجھے کیا دیتا ہے لوگ یہ پوچھ رہے ہیں ترے دیوانے سے کس کا دیوانہ ہے تو کس کو صدا دیتا ہے اس کی عظمت کو تو اے دوست خدا ہی جانے کوسنے والوں کو جو شخص دعا دیتا ہے جانے کس سوچ میں ڈوبا ہے مسیحا میرا زہر دیتا ہے مجھے اور نہ دوا دیتا ...

مزید پڑھیے

پھول جلتے ہیں کہیں برگ و ثمر جلتے ہیں

پھول جلتے ہیں کہیں برگ و ثمر جلتے ہیں فصل گل آئی ہے باغوں میں شجر جلتے ہیں اللہ اللہ جبین رخ جاناں کی تپش ایسا لگتا ہے کہ اب شمس و قمر جلتے ہیں کیا غضب ہے کہ ترے شہر میں اے جان غزل جسم و جاں ذہن‌ و نظر قلب و جگر جلتے ہیں جس طرف دیکھیے اک آگ کا دریا ہے رواں راستے خون میں ڈوبے ہیں ...

مزید پڑھیے

غم دنیا پہ غم ذات پہ رو دیتے ہیں

غم دنیا پہ غم ذات پہ رو دیتے ہیں غم کے مارے ہوئے ہر بات پہ رو دیتے ہیں ہم کو رونا ہے تو بس آج کا ہی رونا ہے لوگ گزرے ہوئے حالات پہ رو دیتے ہیں یاد آتا ہے کسی بات پہ روئے تھے کبھی اب یہ عالم ہے کہ ہر بات پہ رو دیتے ہیں ہم تو خود موڑ دیا کرتے ہیں حالات کا رخ ہم نہیں وہ کہ جو حالات پہ ...

مزید پڑھیے

تیرگی ہو کہ ہو تنویر لہو مانگے گی

تیرگی ہو کہ ہو تنویر لہو مانگے گی ہر نئے دور کی تعمیر لہو مانگے گی اس سے اچھا ہے کہ خوابوں کا بھروسہ نہ کرو خواب دیکھو گے تو تعبیر لہو مانگے گی دشت وحشت میں تو اس وقت مزا آئے گا جب مرے پاؤں کی زنجیر لہو مانگے گی تم مرے سامنے اب جنگ کی باتیں نہ کرو نیام سے نکلی تو شمشیر لہو مانگے ...

مزید پڑھیے

صاحب جام و سبو اہل کرم آتے ہیں

صاحب جام و سبو اہل کرم آتے ہیں ہم سے دیوانے مگر دہر میں کم آتے ہیں کیا سبب ہے کہ تری بزم میں اے جان حیات جب بھی آتے ہیں مرے حصے میں غم آتے ہیں اب نہ زخموں کی ضرورت ہے نہ مرہم کی تلاش یہ مراحل بھی رہ عشق میں کم آتے ہیں جب بھی میں شدت تنہائی سے گھبرایا ہوں ایک آواز سی آئی ہے کہ ہم ...

مزید پڑھیے

چھو لیا شعلۂ رخسار صنم دیکھو تو

چھو لیا شعلۂ رخسار صنم دیکھو تو کتنے ناعاقبت اندیش ہیں ہم دیکھو تو کوئی شکوہ ہے نہ فریاد نہ غم دیکھو تو جانے اب کون سی منزل پہ ہیں ہم دیکھو تو رنج و آلام کی جلتی ہوئی دوپہروں میں تم بھی چل کر کبھی دو چار قدم دیکھو تو ڈوبی ڈوبی سی نظر آتی ہے کیوں نبض حیات آج کیا بات ہے کیوں درد ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5405 سے 6203