وہ جس کے حصے میں درد جگر نہیں آتا
وہ جس کے حصے میں درد جگر نہیں آتا
اس آدمی کی دعا میں اثر نہیں آتا
میں آئنہ ہوں جو دیکھوں گا وہ دکھاؤں گا
فریب دینے کا مجھ کو ہنر نہیں آتا
غبار راہ سے بچ بچ کے چلنے والوں کو
تمام عمر شعور سفر نہیں آتا
دیار زیست کو کیا ہو گیا کہ دور تلک
اداسیوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا
حکومتیں مری انگلی پہ رقص کرتی ہیں
یہ کیا کہا کہ مجھے کچھ ہنر نہیں آتا
یہ وقت ایسا پرندہ ہے جو کہ اے اخترؔ
جو اڑ گیا تو کبھی لوٹ کر نہیں آتا