صاحب جام و سبو اہل کرم آتے ہیں
صاحب جام و سبو اہل کرم آتے ہیں
ہم سے دیوانے مگر دہر میں کم آتے ہیں
کیا سبب ہے کہ تری بزم میں اے جان حیات
جب بھی آتے ہیں مرے حصے میں غم آتے ہیں
اب نہ زخموں کی ضرورت ہے نہ مرہم کی تلاش
یہ مراحل بھی رہ عشق میں کم آتے ہیں
جب بھی میں شدت تنہائی سے گھبرایا ہوں
ایک آواز سی آئی ہے کہ ہم آتے ہیں
ان سے کس طرح ملاقات کریں ہم آخر
وہ کہاں ہوتے ہیں جب ہوش میں ہم آتے ہیں
یہ میرے عزم مسلسل کی کشش ہے اخترؔ
میری جانب مری منزل کے قدم آتے ہیں